خطبات محمود (جلد 5) — Page 152
خطبات محمود جلد (5) ۱۵۲ ہی کوئی نہیں کر سکتا تھا۔اس لئے اس آیت کے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور اگر کوئی سوال کرتا بھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتا سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ۔لیکن قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور خدا کا کلام بلاضرورت یا بیجا نہیں ہوا کرتا اس لئے معلوم ہوا کہ یہاں خدا تعالیٰ کا سوال بیان کرنا اور پھر اس کا جواب بھی دینا کوئی اور حکمت رکھتا ہے اور یہاں جو قریب کا لفظ آیا ہے اس کا مطلب وہ قرب اور بُعد نہیں جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ اس کے متعلق تو اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ محن أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ۔اگر یہاں بھی یہی مراد ہوتی تو پھر یہ کیوں فرما تا کہ جب لوگ تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یہ جواب دیجو گویا پہلے یہ جواب نہیں بتایا گیا تھا اور اب بتا یا ہے تو معلوم ہوا کہ یہاں سوال ہی کوئی اور ہے۔اور اس کے جواب میں جو قریب کہا گیا ہے وہ بھی کوئی اور معنی رکھتا ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان دونوں آیتوں میں خدا تعالیٰ نے ایک عجیب فرق رکھا ہے۔اور وہ یہ کہ قرب اور بعد ہمیشہ نسبت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ایک چیز ہمارے قریب ہے مگر وہی دوسرے کے بعید ہے مثلاً یہ بچہ جو اس وقت منبر کے پاس بیٹھا ہے یہ مجھ سے قریب ہے لیکن جو شخص آخری سرے پر بیٹھا ہے اس کے بعید ہے اور جو اس کے قریب بیٹھا ہے وہ مجھے سے بعید ہے۔تو قریب اور بعید نسبت سے ہوتا ہے۔جب ایک چیز کو قریب کہتے ہیں تو ایک نسبت سے کہتے ہیں دوسری نسبت سے وہی چیز بعید ترین ہو سکتی ہے تو سورۃ ق میں جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (ق:۱۷) کہ ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم ہی اس کے متعلق یہاں تک جانتے ہیں کہ اس کے دل میں جو کچھ وسوسہ ہوتا ہے۔اس کو بھی جانتے ہیں اور ہم ہی اس کے رگِ جاں سے بھی قریب تر ہیں اس میں الیہ کی نسبت سے اقرب فرمایا ہے لیکن وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِي فَإِنِّي قَرِيبٌ میں قریب کا لفظ کسی نسبت سے نہیں فرمایا بلکہ بلانسبت فرمایا ہے اور کوئی حد بندی نہیں کی۔