خطبات محمود (جلد 5) — Page 145
خطبات محمود جلد (5) ۱۴۵ دفعہ زیادہ رغبت سے اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ہم میں سے خدا کے فضل سے ہر ایک نے دعاؤں کا نتیجہ محسوس کیا ہوا ہے۔پھر کونسی چیز ہے جو ہمارے راستہ میں روک ہو سکے سوائے اس کے کہ ہمارےنفس کی سستی اور کاہلی روک ہو۔لیکن جس کام کے لئے ہم کھڑے ہیں اس میں سستی کا ایک منٹ بھی سخت مضر اور خطرناک ہے۔کیا کوئی سمندر میں یا خطرناک جنگل میں ست ہو کر لیٹ سکتا ہے ہرگز نہیں۔اسی طرح ہم بھی ایک ایسے جنگل اور بیابان میں ہیں جس کے چاروں طرف درندے ہی درندے نظر آتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو چاہئیے کہ نمازوں کے علاوہ دوسرے اوقات میں بھی دعاؤں پر بہت زور دیں۔اور یہ سمجھ لیں کہ جب بار بار ایک جگہ دعا پڑتی رہتی ہے تو پھر اس کے قبول ہونے میں کوئی روک نہیں ہو سکتی۔مجھے اپنی ساری عمر میں آج تک کوئی ایسا اتفاق نہیں ہوا۔کہ میں نے کوئی دعا کی ہو۔اور پھر وہ قبول نہ ہوئی ہو۔اور جہاں منشاء الہی نہ ہو وہاں دعا کرنے کی توفیق ہی نہیں ملتی۔مجھے خوب یاد ہے کہ حضرت صاحب کی آخری بیماری میں مجھ سے دعا کرنے کی توفیق چھینی گئی۔مجھے اس سے گھبراہٹ بھی پیدا ہوئی کہ کیا مجھے آپ سے محبت نہیں ہے کہ آپ کی صحت کے لئے دعا کرنے کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔پھر میں نے اس بات کے لئے دعا کی کہ مجھے آپ کی صحت کے لئے دعا کرنے کی توفیق ملے لیکن بالکل نہ ملی۔مجھے دعا کرتے وقت کچھ روک سی معلوم ہوئی۔جب میں نے حد سے زیادہ دعا کرنے کی کوشش کر کے دیکھ لیا کہ طبیعت اس طرف متوجہ نہیں ہوتی تو سمجھا کہ اس میں خدا کی مصلحت ہے۔تو جب کوئی انسان سنجیدگی اور اخلاص سے دعا کرے تو اگر خدا کا منشاء قبول کرنے کا نہ ہو تو اسے توفیق ہی نہیں دیتا۔اور اگر توفیق دے تو ضرور قبول کر لیتا ہے اصل بات یہ ہے کہ جب دعا میں اخلاص اور توکل پیدا ہو جائے تو وہ کبھی نہیں ملتی یہی بات خدا تعالیٰ نے اس میں فرمائی ہے کہ امن یجیب الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكشِفُ السُّوءَ (النمل - ۶۳) شکار کوگھیر کر کسی خاص جگہ تک لے جانے کو اضطر کہتے ہیں۔تو مضطر کے یہ معنے بھی ہوئے کہ ایسا شخص جس کے سب سامان کٹ جائیں۔بعض لوگوں نے اضطرار کو سمجھا ہی نہیں۔وہ کہتے ہیں۔رونے گڑ گڑا کر دعا مانگنے کا نام اضطراری دعا ہے۔حالانکہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔مضطر اس انسان کو کہتے ہیں