خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 125

خطبات محمود جلد (5) ۱۲۵ کہ تم تو بھول جایا کرو۔اور وہ تمہارے جیسے ہی نہ بھولا کریں۔حضرت عمر اور عمار کا تیتیم کے متعلق جھگڑا ہوا تھا۔حضرت عمر کہیں کہ میں کبھی اس بات کو نہیں مانو نگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کی بجائے عذر کے وقت تیم کو جائز قرار دیا ہو۔لے حالانکہ عمار ٹھیک کہتے تھے۔دوسرے راویوں سے بھی ان کی بات کی تصدیق ہوتی ہے۔مگر حضرت عمر کو یاد نہیں رہا تھا۔اور وہ اپنی بات پر اس قدر مُصر تھے کہ لڑنے کو تیار ہو جاتے تھے۔عمار ا پنا واقعہ پیش کرتے کہ میں نے ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔لیکن وہ نہیں مانتے تھے بعض دفعہ کوئی بات حافظہ سے اس طرح اُتر جاتی ہے کہ اس کے متعلق خیال بھی نہیں آ سکتا کہ کبھی ہوئی تھی۔یہی بات حضرت عمر کو پیش آئی۔اصل بات یہ ہے کہ حافظہ کے لئے آنکھیں۔کان۔ناک۔زبان لمس وغیرہ حواس ہیں ان کے ذریعہ انسان کو ہر ایک بات یاد رہتی ہے مثلاً سختی کا چھونے سے پتہ لگتا ہے لیکن بعض لوگوں کے جسم ایسے سخت ہوتے ہیں کہ انہیں چھونے سے پتہ نہیں لگتا۔اسی طرح بعض چیزیں دیکھنے سے یا د رہتی ہیں لیکن بعض کی آنکھیں کمزور ہوتی ہیں یا ایسا ہوتا ہے کہ ان کی عادت غور سے دیکھنے کی نہیں ہوتی۔اس لئے انہیں بعض چیزیں یاد نہیں رہتیں۔مثلاً میری آنکھیں کمزور ہیں اس لئے زیادہ دور کی چیزیں مجھے دکھائی نہ دیں گی۔لیکن ایک اور شخص جس کی نظر مجھ سے تیز ہوگی وہ مجھے سے زیادہ دور کی چیزیں دیکھے گا۔اب اگر کوئی ہم دونوں سے پوچھے کہ تمہارے سامنے کیا کیا چیزیں ہیں تو ہمارے بیان کرنے میں ضرور اختلاف ہوگا۔پھر جس کی نظر کمزور ہوا سے چیزیں بھی کم یا درہتی ہیں۔کیونکہ اس کے دماغ پر دیکھنے کا اثر کم پڑتا ہے۔ہاں اگر وہ ایک چیز کو بار بار دیکھے تو جس طرح پھیکی سیاہی پر بار بار قلم پھیرنے سے شوخ سیاہی ہو جاتی ہے اسی طرح اس کے بار بار کے تکرار سے اس کے دماغ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔اس لئے وہ اسے یا د رہتی ہے۔اسی طرح بعض لوگوں کے کان کمزور ہوتے ہیں وہ ایک آدھ دفعہ سُنی ہوئی بات کو یاد نہیں رکھ سکتے۔مگر بار بار سننے سے خوب یادر کھتے ہیں وہ لوگ جن کی آنکھیں کمزور ہوتی ہیں اور حافظہ بہت تیز ہوتا ہے ان کے بخاری کتاب التیمم باب التيتم هل ينفخ فيهما۔