خطبات محمود (جلد 5) — Page 117
۱۱۷ 17 خطبات محمود جلد (5) اصلاح کے لئے محاسبہ نفس ضروری ہے فرموده ۲ جون ۱۹۱۲ء) تشہد وتعوذ کے بعد سورہ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔وَفِي الْأَرْضِ أَيتُ لِلْمُوقِنِينَ وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (الدريت: ۲۱-۲۲) اور فرمایا۔بعض تمدنی غلطیاں جو بظاہر چھوٹی چھوٹی معلوم ہوتی ہیں بہت بڑے خطرناک نتائج کا باعث ہو جاتی ہیں اور بہت سے امور ایسے ہیں جنہیں ابتداء انسان چھوٹا سمجھتا ہے لیکن نتائج کے لحاظ سے بہت بڑے ہوتے ہیں۔موجودہ جنگ ہی کو دیکھو اس کا وہ محرک جو بظاہر دنیا کو بتایا جاتا ہے۔( واللہ اعلم اصلیت کیا ہے ) ایسا خفیف سا ہے کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے کہ ایسا معمولی امر بھی ایسی خطرناک جنگ کا باعث ہو سکتا ہے۔ایک ملک کے شہزادہ کو اپنے ملک اور اپنی رعایا کے لوگوں نے قتل کر دیا۔اس ایک قتل پر آگ بڑھنی شروع ہوئی چونکہ وہ ولی عہد تھا اس لئے اس کے قاتلوں کا بڑا سخت جرم تھا۔لیکن اس کے لئے زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا تھا کہ ان کو سخت سے سخت سزائیں دی جاتیں قتل کئے جاتے۔جائدادیں ضبط کی جاتیں۔قید کئے جاتے خواہ وہ ہزاروں ہی ہوتے تب بھی اس واقعہ کی یہی شکل ہو سکتی تھی لیکن اس کی تحقیقات کرتے ہوئے اس سلطنت کو خیال پیدا ہوا کہ پاس کی جو چھوٹی ریاست ہے۔اس کی تحریک سے یہ قتل ہوا ہے۔اس لئے اس کو دبانا چاہا۔ایک اور سلطنت کے اس ریاست سے تعلقات تھے۔اس نے کہا۔کیا تم نے اس کو کمزور سمجھ کر دبانا چاہا ہے ہم اس کے مددگار موجود ہیں۔جب ادھر سے ایسا ہوا تو ایک اور سلطنت اس کے مقابلہ کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئی۔اسی طرح ہوتے ہوتے کچھ سلطنتیں ایک طرف ہو گئیں اور کچھ دوسری طرف۔اور اس طرح تمام دنیا لے آسٹریا (مرتب)