خطبات محمود (جلد 5) — Page 116
خطبات محمود جلد (5) ١١٦ کس قدر سمجھایا ہے۔سورہ فاتحہ میں ترقی کے متعلق دعائیں سکھلائی ہیں لیکن تین جگہ متکلم کی ضمیر آئی ہے اور تینوں جگہ جمع ہے۔ایک جگہ بھی واحد نہیں گویا اس سے یہ بتایا ہے کہ اکیلا انسان کچھ نہیں کر سکتا۔جماعت کے ساتھ ہو کر کام کرنا چاہئیے۔پس کسی جماعت کی ترقی فردا فردا کام کرنے سے نہیں ہؤا کرتی اور جب تک اس کا ہر ایک فرد اپنا فرض نہ سمجھے کامیابی نہیں ہو سکتی پس کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیئے۔کہ فلاں کام سیکریٹری کا ہے بلکہ اسے اپنا سمجھنا چاہئیے اگر سیکریٹری کام نہیں کر سکتا۔تو وہ کرے نہ کہ اس کی کمزوری کو دیکھتا رہے مثلاً اگر ایک شخص فوج میں دشمن کے مقابلہ پر کھڑا ہو اور وہ کمزور ہوتو دوسرے کا فرض ہے کہ اس کی جگہ کھڑا ہو جائے۔کیونکہ وہ اگر اس کی جگہ کھڑا نہیں ہوگا تو اس کا اپنی جگہ کھڑا ہونا بھی لغو ہوگا۔پس ترقی کے لئے طاقتوروں کا فرض ہے کہ کمزوروں کو اپنے ساتھ کھینچ لیں۔اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے۔تو معلوم ہوا کہ ان کی جماعت ہی نہیں۔اگر ان میں سے بعض افراد گر گئے تو معلوم ہوگاوہ بظاہر جماعت کہلاتے تھے مگر دراصل پراگندہ تھے لیکن اگر وہ کمزوروں کو بھی اپنے ساتھ رکھیں گے تو ثابت ہوگا کہ ان کی جماعت ہے۔غرض ابھی ہمارے لئے بہت کام باقی ہے اس وقت تک کوئی جماعت جماعت نہیں کہلا سکتی۔جب تک کہ ہر ایک شخص تبلیغ کو اپنا فرض نہ سمجھے اور اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل نہ جائے۔کہ اگر کوئی درمیان میں سے سرکنا چاہے تو بھی نہ سرک سکے۔اللہ تعالیٰ یہاں کے لوگوں کو بھی اور باہر کے لوگوں کو بھی اس بات کے سمجھنے کی توفیق دے کہ جو کام ہمارے سپرد ہے اس کو سمجھیں اور اس کے پورا کرنے کی کوشش کریں۔اور سورۂ فاتحہ میں جو انعام آئے ہیں۔ان کے وارث بنائے۔( آمین ثم آمین ) الفضل ۳۰ رمئی ۱۹۱۶ء)