خطبات محمود (جلد 5) — Page 102
خطبات محمود جلد (5) ١٠٢ حکم دیا ہے کہ گھر میں ایک کمرہ بنالو۔اور اپنے بیوی بچوں سے مل کر با جماعت نماز پڑھ لیا کرو۔حالانکہ اس تقریر میں میرا یہ مطلب نہ تھا۔میں نے تو کہا تھا کہ جہاں صرف ایک ہی احمدی ہو۔ارد گر د غیر احمدی ہی غیر احمدی ہوں اور اسے مسجد میں نماز نہ پڑھنے دیتے ہوں۔تو جماعت کی پابندی کے لئے وہ اپنے بیوی بچوں کو ساتھ کھڑا کر کے جماعت کر لیا کرے۔میرا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ جہاں مسجد میں ہوں۔پھرا اپنی مسجد میں ہوں یا جس جگہ میں ایک بھی اور احمدی ہو تو وہاں بھی گھر میں ہی نماز پڑھ لو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آنے کو ایسا ضروری قرار دیتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ جو شخص مسجد میں نماز پڑھتا ہے اسے تم مومن سمجھو گویا مسجد کا آنا اس کے ایمان کی علامت قرار دی ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہئیے کہ کوئی مسجد مقرر کر کے وہاں جمع ہوں اور جہاں کوئی مسجد نہ ہو وہاں کمرہ کرایہ پرلے لیویں اور اس طرح باجماعت نماز ادا کریں۔ہاں اگر بعض لوگوں کو اپنے دفاتر کے وقتوں اور رخصت نہ ملنے کی وجہ سے یا کوئی ایسی ہی اور مجبوری ہو تو اوقات دفاتر کے علاوہ باقی نمازوں کو جماعت سے آکر پڑھا کریں، اور بڑے بڑے شہروں مثلاً لا ہور ہے یا امرتسر یا دہلی ہے۔وہاں چونکہ لوگ ایک دوسرے سے بہت دور دور ہیں تو وہاں یہ ہوسکتا ہے کہ محلے مقرر کر لیں۔اگر مسجد ہو تو بہت اچھا وگر نہ ایک کمرہ کرایہ پر لے کر وہاں اپنے اپنے محلہ میں پڑھ لیا کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک ایک میل فاصلے پر کے گاؤں میں مسجد میں بنی ہوئی تھیں وہاں ان میں لوگ پڑھ لیا کرتے تھے۔یہاں قادیان میں تو بہت قریب قریب ہیں۔میری خواہش ہے کہ اگر درمیان کے مکانات مل جائیں تو بڑی اور چھوٹی مسجد کو ملا کر ایک کر دیا جائے۔ہاں باہر کی مسجد مناسب موقع پر ہے۔پس قریب کی مسجدوں میں جہاں پہنچ سکے پہنچے اور اگر انسان کو دفتر کی نوکری کی وجہ سے مجبوری ہے اور وہ نہیں آسکتا تو یہ الگ بات ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ بغیر مجبوری کے کوتا ہی نہ کرے۔میرے نزدیک اس شخص کی نماز جائز نہیں جس کے مکان تک اذان کی آواز جاتی ہے اور وہ جماعت کے لئے مسجد میں حاضر نہیں ہوتا۔حضرت انس بن مالک کی نسبت آتا ہے کہ وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے پھر بھی وہ جماعت کے لئے پہلے ایک مسجد میں جاتے پھر دوسری میں اسی طرح