خطبات محمود (جلد 5) — Page 103
خطبات محمود جلد (5) ہر ایک مسجد میں جاتے اگر جماعتیں ہو چکی ہوتیں اور وقت نماز بھی تنگ ہونے کو ہوتا۔پھرا کیلے پڑھ لیتے تو صحابہ کے عمل کو دیکھو اور ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو دیکھو۔آپ نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ مسجد میں جا کر جماعت سے نماز پڑھا کریں۔یہ بھی غلط طریق ہے کہ گھر میں تکبیر کی آواز آ جاتی ہے اس لئے وہیں اپنے مکان پر یا دکان کے چبوترے پر نماز پڑھ لی۔اگر ایسے ہی ہے تو سب ہی اپنے اپنے گھر میں کھڑے ہو جایا کریں۔امام آئے اور اکیلا مسجد میں نماز پڑھانی شروع کر دے۔یہ بہت برا طریق ہے۔یہ لوگوں کو غلطی لگی ہے ایک دفعہ صحابہ نے چاہا کہ اپنے مکانات کو جو دور ہیں فروخت کر دیں اور مسجد کے گرد جگہ لے کر مکان بنا لیں۔تو آپ نے فرمایا۔تم کوئی قدم نہیں اٹھاتے مگر اس کے لئے ثواب ملتا ہے۔لے اس خیال پر ایک صحابی کا یہ طرز عمل تھا کہ وہ جہاں جاتے شہر کے پرلی طرف مسجد سے دور مکان لیتے تاکہ مسجد تک آنے کا ثواب ملے اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب نہیں سمجھا مگر اس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر اتنا زور دیتے تھے کہ بعض صحابہ نے دور دور مکان لینے شروع کر دیئے۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوں میں آنے کا بھی فرق بتایا ہے۔پہلی صف کو دوسری پر ترجیح دی ہے اسی طرح فرمایا ہے کہ جو شخص جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جاتا ہے وہ اپنے پہلے قدم کے اٹھانے سے گناہ مٹاتا ہے اور اس کا دوسرا قدم درجہ بڑھا تا ہے۔اسی طرح پھر تیسرا گناہ مٹاتا ہے اور چوتھا درجہ بڑھاتا ہے۔اور اسی طرح پھر ایک گناہ مٹاتا اور دوسرا درجہ بڑھاتا ہے۔حتی کہ وہ مسجد میں پہنچ جاتا ہے۔آپ نے مسجد میں آکر باجماعت نماز ادا کرنے کی بڑی بڑی فضیلتیں بیان کی ہیں۔سے مسجد کی نماز معمولی چیز نہیں یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے جو قو میں مسجدوں کو آباد نہیں کرتیں وہ بڑے بڑے مدارج حاصل نہیں کرتیں۔مسجد امیر غریب کا امتیاز مٹاتی ہے۔دونوں پہلو بہ پہلو کھڑے ہوتے ہیں پھر کبھی غریب آگے ہوتا ہے اور امیر پیچھے تو امیر کا سرغریب کے پاؤں سے لگتا ہے۔اس طرح امراء کا تکبر ٹوٹتا ہے اور پھر مساجد میں مسلمانوں مسلم كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب فضل كثرة الخطا إلى المساجد۔مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ باب فضل صلاة الجماعة وانتظار الصلوة۔