خطبات محمود (جلد 5) — Page 93
خطبات محمود جلد (5) ۹۳ کے رڈ کرنے والے اور خدا تعالیٰ کی درگاہ سے دور ہو جانے والے لوگوں کو پوچھو کہ کیوں تم نے یوں کیا۔تو ہر شخص اپنے لئے جدا جدا باعث بتائے گا۔جو وجہ ایک کی ہوگی وہ دوسرے کی نہیں ہوگی۔ایک کے لئے روک اور ہوگی دوسرے کے لئے اور تیسرے کے لئے اور۔چوتھے کے لئے اور۔پانچویں کے لئے اور۔ان میں سے ہر ایک شخص جو اس صداقت کو نہیں مانتا۔وہ اپنے لئے مختلف وجہیں رکھتا ہے۔غرضیکہ ہر ایک کے لئے جدا جدا ابتلاء ہیں۔یہ آزمائشیں دو درجوں میں منقسم ہیں ایک آزمائشیں انعام کی ہوتی ہیں۔دوسری عذاب کی ہوتی ہیں۔یا تو ایسی آزمائشیں ہوتی ہیں کہ وہ انعامات کا رنگ رکھتی ہیں یا کوئی بڑا ہو جاتا ہے دولت مل جاتی ہے اس کے لئے اس کی دولت ابتلا ہو جاتی ہے۔وہ خیال کرتا ہے۔کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں ایک مفلس نادار آدمی کو جس کی کچھ بھی لوگوں میں حیثیت نہیں مان لوں اور اس کا فرمانبردار بن جاؤں۔عہدہ دار خیال کرتا ہے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے ماتحت کی بیعت کر لیں۔اسی طرح کسی کے لئے اس کا آرام اور آسائش سامان ابتلاء ہو جاتا ہے۔ہم نے ایسے آرام سے زندگی بسر کی ہے ایسی آسائشوں اور نعمتوں میں پرورش پائی ہے۔اب اگر دین پر چلیں گے اور کسی کے ماتحت ہوں گے تو یہ آرام اور آسائش نہیں رہے گی۔اسی طرح آرام اور آسائش بعض لوگوں کے لئے ابتلاء کا موجب بن جاتی ہے۔ایک طالب علم ایک سال وظیفہ لیتا ہے تو دوسرے سال کے لئے بھی اس کے دل میں شوق پیدا ہو جاتا ہے۔کہ اس سال بھی وہ وظیفہ لے تو بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس مال اس دولت اس بزرگی اور برتری اور عیش و تنعم کے سامان سے فائدہ اٹھا ئیں اور یہ خیال کریں کہ وہ خدا جس نے بغیر کسی قسم کی محنت کے بغیر کسی قسم کی مشقت کے اس قدر انعامات ہم پر کئے ہیں اگر ہم اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے تو کس قدر انعامات حاصل ہوں گے۔ان لوگوں نے اسی قدر پر قناعت کر لی ہے۔دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں کہ ان کے لئے یہ آزمائشیں مصائب کے رنگ میں ہوتی ہیں۔وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمیں آگے کو نسا سکھ ملا ہے۔ہم آگے کس آرام میں ہیں کہ اس کو مان کر وہ پالیں گے۔کوئی خدا کی طرف سے آیا ہو تو ہمیں اس کے ماننے سے کیا۔ہم آگے ہی دکھوں اور مصیبتوں میں ہیں اس کو مان کر اور دکھوں اور مصیبتوں میں پڑ جائیں گے۔پس اگر ایک طرف انعامات کے ذریعے