خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 94

خطبات محمود جلد (5) ۹۴ سے آزمائشیں ہوتی ہیں۔تو دوسری طرف مصائب اور مشکلات کے ذریعے سے بھی لوگ آزمائے جاتے ہیں۔پھر آگے ان دونوں قسموں کی ہزار قسمیں ہیں لیکن اگر انسان ذرا غور کرے کہ کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ اس کے لئے محنت نہ کی جائے تو پھر انسان کے لئے اللہ کی راہ میں محنتیں اور مشقتیں کوئی چیز نہیں۔وہ فوائد جن کے لئے انسان کو امید ہوتی ہے کہ ہمیں مل جائیں گے۔ان کے لئے انسان کس قدر محنت کرتا ہے اور رات دن لگا رہتا ہے۔اس لئے کہ اس محنت میں ایک فائدہ دیکھتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ اسے جلد ملنے والا ہے۔بہت سے لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انہیں یہ فائدہ حاصل ہے مگر دراصل وہ انہیں حاصل نہیں پس اگر انہیں یہ یقین ہو جائے کہ جو کچھ اللہ کا رسول لایا ہے اگر ہم اس کو مان لیں گے تو اللہ تعالیٰ کے انعامات کے مستحق ہو جائیں گے تو پھر ان مصائب کو اس رسول سے روکنے کی وجہ نہ بتاتے بلکہ فوراً اس کو مان لیتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں کہ جس بات کو یہ لوگ رڈ کرتے ہیں اس کے ماننے میں بڑے بڑے انعامات ہیں اور اس کے نہ ماننے میں بڑی بڑی تکلیفیں مشقتیں اور عذاب۔وہ قوم جو مصائب کو دیکھ کر کسی فائدے کو چھوڑ دے بجائے آگے قدم مارنے کے پیچھے رہتی ہے۔ایک انسان کو اگر ایک راستے پر گزرنے سے کپڑوں اور مال کے لوٹے جانے کا خطرہ ہو اور دوسرے راستے پر گزرنے سے جان جانے کا خطرہ ہو تو وہ خیال کر کے کہ جان بچی لاکھوں پائے اس راستہ کو ترک کر دے گا۔جس میں اس کی جان جانے کا خطرہ ہے اور اس رستہ کو اختیار کرے گا کہ جس میں اس کے مال کا اندیشہ ہے۔پس اسی طرح جسے یہ یقین ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے اور اس کی بھیجی ہوئی صداقتوں کا انکار کر کے جو عذاب ملنے والا ہے وہ ان مشقتوں اور تکلیفوں سے بہت بڑھ کر ہے جو ایک صداقت اور اس کے لانے والے کو مان کر پڑنے والی ہیں تو پھر انسان ان صداقتوں کا انکار نہیں کر سکتا۔اور ان مصیبتوں اور مشقتوں سے نہیں گھبراتا۔جو لوگ صداقتوں کے منکر ہوں وہ مجبور ہیں لیکن جو جماعت صداقت قبول کر چکی ہے اور اس پر ایک اور ایک دو کی طرح یہ روشن ہو گیا ہے ایسی جماعت کے پیچھے