خطبات محمود (جلد 5) — Page 67
۶۷ 10 خطبات محمود جلد (5) فروعی مسائل میں جھگڑے نہ کرو (فرموده ۲۴ / مارچ ۱۹۱۶ء) تشهد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا:- يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَاَطِيْعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا اِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ (الانفال: ۴۶-۴۷) اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا فضل ہوا ہے کہ مسلمان بالکل پراگندہ ہو گئے تھے۔ان میں سے ہر ایک شخص دوسرے کے مخالف چل رہا تھا۔کسی کا کسی سے کوئی اتحاد کوئی محبت کوئی پیار اور کوئی تعلق نہیں تھا۔بلکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ مسلمان کہلاتے تو تھے مسلمان مگر اسلام کوئی نہ تھا۔ہر شخص کا مذہب علیحدہ تھا۔لوگ چھلکے کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اور مغز کی کسی کو فکر نہ تھی۔درخت کے اوپر فدا ہورہے تھے مگر درخت ایسا تھا جو پھل نہیں دیتا تھا۔وہ سواری کے پیچھے پڑے ہوئے تھے مگر یہ کسی کو فکر نہ تھی کہ منزلِ مقصود پہنچنا بھی ہے یا نہیں۔ہر ایک مذہبی پہلو سے حالت بدترین ہو رہی تھی۔اور یہ کوئی دور کی بات نہیں۔وہ لوگ جنھوں نے یہ نہیں دیکھا اب جا کر غیر احمدیوں کو دیکھ لے کہ ان کا کیا مذہب ہے کیا طریق ہے کیا رنگ ہے کیا ڈھنگ ہے نہ تو ان میں اسلام ہے اور نہ کوئی مسلم ہے۔ہر شخص کی رائے اس کا مذہب اور ہر شخص کا خیال اس کا دین ہے۔ایسی دردناک حالت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے جیسا کہ اس کی قدیم سے سنت ہے ایک ایسے انسان کو مبعوث فرمایا۔جس کے کلام کو اپنا کلام اور جس کے فیصلہ کو اپنا فیصلہ قرار دیا۔اس انسان کے ذریعہ وہ مذہب جس کی