خطبات محمود (جلد 5) — Page 554
خطبات محمود جلد (5) ۵۵۳ کہ وہ دنیا کے مال سے محروم رہے اور بظاہر حال یہ تو خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا اور نہ اس کی کوئی امید ہوسکتی تھی۔پس یہ کس طرح ممکن تھا کہ مال غنیمت کا خیال ان کو مغموم بنا رہا ہو پس ان کا خون اس لئے نہ تھا بلکہ جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان کو صدمہ اس لئے تھا کہ کاش ان کے پاس مال ہوتا تو وہ اسے خدا کی راہ میں خرچ کرتے اس لئے خدا نے فرمایا کہ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلِ یعنی محسنوں پر کوئی الزام نہیں ہے۔پہلے فرمایا۔لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ مِنْ حَرَج حرج کے معنے اعتراض کے ہیں۔جیسا کہ عرب لوگ جو بڑی ہیں کہا کرتے ہیں کہ حدث عن البحر وما عليك من حرج یعنی سمندر کے متعلق جو چاہے بیان کرے پھر تجھ پر کوئی حرج نہیں۔یعنی کوئی اعتراض نہیں۔پھر فرمایا کہ یہ حسن ہیں ان پر کوئی الزام نہیں کیونکہ جب وہ بسبب سواری نہ مل سکنے کے واپس کوٹے تو انکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔فیض کے معنے ہیں کہ برتن کا بھر کر اس میں سے پانی کا بہنا۔پس ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا بہنا ان کے قلب کے خون سے پُر ہونے میں ایک نشان ہے یہاں ان لوگوں کو صرف دل کی خواہش نے محسن بنادیا ہے گو یا بغیر کسی کام کرنے کے وہ خدا کے حضور میں محسن کہلائے۔اس حال میں کہ ان کے دلوں میں خدا اور اسکے رسول کی محبت بھری ہوئی تھی۔اگر ان کے پاس مال ہوتا تو وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے اور اگر موقعہ ملتا تو وہ جان کو بھی قربان کرتے۔پس معلوم ہوا کہ بغیر عمل کئے بھی انسان محسن ہو سکتا ہے اور یہ اس صورت میں جبکہ اس کے دل میں صدق اور اخلاص ہو۔آجکل جان دینے کا موقعہ نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر ایک احمدی دل میں یہ نیت رکھتا ہے کہ اگر اس کو اللہ کی راہ میں گھر سے بے گھر اور مال و اولاد سے یک طرف اور خویش و اقارب سے علیحدہ ہونا پڑے اور خدا کی راہ میں جان دینی پڑے تو وہ بلا دریغ نہایت خوشی کے ساتھ اللہ کی راہ میں جان دے دے گا۔تو ایسے لوگوں کیلئے بھی خدا تعالیٰ کے ہاں وہی درجہ ہے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کر نیوالوں اور اس کے دین کے لئے جان لڑانے والوں کا درجہ ہے۔ایسے لوگ نہ صرف وہ ثواب پاتے ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کر نے والوں