خطبات محمود (جلد 5) — Page 545
خطبات محمود جلد (5) ۵۴۴ جاسکتا۔ان سب کو جو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے اسکی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ بنوامیہ کے بعد عہد حکومت بنوعباس کا تھا۔ان سے جس قدر ہو سکا بنو امیہ کے معائب کی تشہیر کی اور انکو بد نام کیا اور انکی خوبیوں کو چھپایا۔جس وقت بنو عباس غالب ہوئے انہوں نے بنوامیہ کا استیصال شروع کر دیا۔بنوامیہ کے وقت میں صرف مسلمانوں کی ایک حکومت تھی لیکن بنو عباس کے وقت میں مختلف حکومتیں قائم ہوگئیں۔چنانچہ ہسپانیہ میں جو حکومت تھی وہ بڑی شان و جبروت کی تھی۔غور کرو۔یہ اختلاف کیا تھا۔صرف قومی اختلاف تھا۔بنو عباس اور بنوامیہ کی ذاتی خصومتیں تھیں۔معمولی باتوں پر اختلاف شروع ہوا۔اور مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد سب غارت ہو گیا۔میں نے ۵ابہ ء کے جلسہ میں بتایا تھا کہ کس طرح حضرت عثمان کے وقت میں معمولی معمولی باتوں نے حضرت عثمان کو شہید اور مسلمانوں کو خانہ جنگی کا شکار کیا۔بنوامیہ کے خلاف شکایات آتی تھیں حضرت عثمان نے ان کو کچھ اہمیت نہ دی۔اور یہ محض ایک قومی جھگڑا تھا جیسا کہ کبھی ہندوستانی اور پنجابی کا جھگڑا شروع ہو جایا کرتا ہے۔ہر ایک گروہ اپنی ترقی کا خواہاں تھا۔پس اس جھگڑے نے جو رنگ اور جو صورت اختیار کی اسکا نتیجہ جو کچھ ہوا۔میں نے خوب کھول کر بیان کر دیا تھا۔عجمی لوگ اپنی بڑائی چاہتے تھے کہ عربوں سے تمام عہدے چھین کر عجمیوں کو دے دیئے جائیں۔بھلا یہ کیسے ہو سکتا تھا۔عرب وہ لوگ تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی تھی۔اس وجہ سے وہ بادشاہ ہوئے تھے۔ابتدا میں ان کا عمل دخل ضروری تھا۔لوگوں کو چاہیے تھا کہ ان سے پہلے اسلام سیکھتے چنانچہ تمام لوگ ان عہدوں پر عرب ہی ہوئے۔قاضی وغیرہ۔مگر ایرانیوں نے اس بات کو نا پسند کیا چالیں شروع کر دیں۔بعض نے حضرت علی کی اولاد کی طرف داری شروع کی بعض بنو عباس کی طرف ہو گئے کہ یہ لوگ حضرت عبد اللہ بن عباس عم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد سے تھے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس کے پوتے محمد بن علی بن عبد اللہ نے آہستہ آہستہ ایران میں آدمی بھیج کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اگر چہ یہ ایک معمولی بات تھی۔مگر اسلام کیلئے آئندہ چل کر کیسی خطرناک ثابت ہوئی۔بنوامیہ