خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 546

خطبات محمود جلد (5) ۵۴۵ کو مٹایا گیا اور پہلی ہی دفعہ دو اسلامی حکومتیں قائم ہوگئیں۔مسلمان چاہتے تھے کہ ایک ہی ان کا بادشاہ ہومگر جب بنوعباس نے زور پکڑا تو ہسپانیہ میں بنوامیہ کی ایک شاخ نے علیحدہ حکومت کھڑی کر دی۔اب بنو فاطمہ نے کہا کہ اگر رسول اللہ کے چچا کی اولاد ہونے کی وجہ سے بنو عباس حکومت کے حقدار ہو سکتے ہیں تو ہم بدرجہ اولیٰ حکومت کے حقدار ہیں۔چنانچہ فاطمیوں نے اپنی الگ حکومت مصر میں قائم کر لی گو یا اب تین حکومتیں ہو گئیں۔اتحاد مٹ گیا۔ایرانی آگے بڑھ گئے۔وہ کتنا بڑا ظالمانہ حکم تھا جو ابو العباس سفاح نے دیا کہ تمام وہ لوگ جو عربی بولنے والے ہیں قتل کر دیئے جائیں لے۔اس حکم کی تعمیل میں جس قدر عربی بولنے والے ملے ہلاک کئے گئے۔بڑے بڑے علماء شہید ہو گئے۔چھ لاکھ عربی بولنے والا انسان خراسان کے علاقہ میں قتل کیا گیا۔یہ وہ لوگ تھے۔جو اس لئے اپنے گھروں کو چھوڑ کر باہر گئے تھے کہ اسلام کی حفاظت کریں اور یہ وہ لوگ تھے جو سپاہی تھے جوان تھے۔اگر چہ موت سب پر آتی ہے۔مگر ان لوگوں کے خیال کے مطابق جو اس بات کے قائل ہیں کہ تدبیر سے موت میں کچھ تعویق ہوسکتی ہے۔وہ لوگ کچھ عرصہ اور جی جاتے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اسلام کو اس قتل عام سے کتنا بڑا نقصان پہنچا۔نتیجہ اس قتل و غارت کا یہ ہوا کہ عربوں نے بالکل قطع تعلق کر لیا۔عباسیوں کی حکومت سے انہوں نے کچھ واسطہ نہیں رکھا۔پھر عباسی خلیفوں پر ترک غلاموں نے اتنا غلبہ پایا کہ خلفاء کو تر کی غلام تخت پر سے نیچے کھینچ لیا کرتے تھے۔پھر میں نے سنایا تھا کہ شیعہ سنی کے سوال نے کتنا فتنہ برپا کیا تھا جس کی صرف یہ وجہ تھی کہ وزیر شیعہ تھا وہ چاہتا تھا کہ سُنیوں کو سزا دلوائے۔ولی عہد سلطنت اس کے اس ارادہ میں مزاحم ہوا۔پس وہی ایرانی جن کی خاطر عربوں کا استیصال کیا گیا تھا اب خلفاء کے خلاف ہلاکو خان کو چڑھا لائے۔۱۸ لاکھ زن و مرد بوڑھا بچہ بغداد میں قتل ہوا۔خدا نے سزا دلوائی کہ تم نے چھ لاکھ قتل کرایا۔اب تمہارے ۱۸ لاکھ قتل ہوتے ہیں۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ عباسیوں کے خاندان کی ایک ہزار عورت سے زبر دستی زنا کیا کہ آئند کوئی ان کی نسل سے ایسا آدمی نہ اُٹھ - تاریخ الخلفاء حالات عبد اللہ بن محمد بن علی التفاح