خطبات محمود (جلد 5) — Page 507
خطبات محمود جلد (5) اور اس خدا سے برگشتہ کو خدا کی طرف لائیں اگر الفاظ میں بھی حمد کی جاتی ہے تو عملاً بھی حمد ادا کرنا چاہیئے۔اس کی طرف آیت شریفہ سَبِّحُ اسْمَ رَبِّكَ الأغلى (سورۃ اعلے :۲) میں بھی اشارہ ہے۔بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے شکروں کو بجائے خدا کو دینے کے غیروں کو دیتے ہیں۔اس کا دفعیہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کو جو خدا سے دُور ہو چکے ہیں انکو خدا کے حضور لا ؤ اور کتنے افسوس کی بات ہے کہ مسلمان اقرار کرتا ہے کہ بیشک اللہ ہی مستحق حمد ہے اور پھر اپنی عبودیت کا بھی اقرار کرتا ہے۔پس عبد کا کیا کام ہے جب وہ دیکھے کہ کوئی شخص آقا کی چیز کو اٹھا کر کسی اور غیر جگہ لئے جا رہا ہے تو وہ اس غیر سے چھین لے اور اپنے آقا کے پیش کرے۔عبد اقرار کرتا ہے کہ اللہ رب العالمین کی ہی تمام اشیاء ہیں غیروں کا ان اشیاء میں کوئی دخل نہیں پس کیسا وہ عبد ہے جو دیکھ رہا ہے کہ آقا کی چیزیں دوسروں کو دی جارہی ہیں اور وہ خاموش بیٹھا ہے۔تمام وہ مذاہب جو خدا کا شریک بناتے ہیں حقدار ہیں کہ ان کو خدا کی طرف لایا جائے الحمد بتلاتی ہے کہ حق تو سب خدا کا ہی ہے مگر اس سے چھین کر دوسروں کو دیا جاتا ہے۔پس کتنے افسوس کی بات ہے کہ مسلمان پانچ وقت عبودیت کا اقرار کرتا ہے مگر جب آقا کی چیز کو غیروں کے پاس جاتا دیکھتا ہے تو کچھ پرواہ نہیں کرتا۔کیا اگر خود اس کی چیز کو کوئی اٹھا کر لے جائے تو وہ اسی طرح خاموش بیٹھا رہے گا اور لے جانیوالے سے چھینے کی کوشش نہیں کرے گا۔جو بندہ الحمد للہ کہتا ہے اس پر ذمہ داری آتی ہے کہ خدا کے دین کی اشاعت میں سرگرم رہے۔اب وہ یہ عذر نہیں کر سکتا کہ میں اس کام کو کر نہیں سکتا اسکا فرض ہے کہ اگر اس کی جان بھی جائے تو بھی خدا کے دین کی اشاعت میں لگا ر ہے۔پس عبد ہونے کا اقرار کر چکا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ خدا کی چیز کو خدا کے پاس لائے۔اسکے مالک کی کروڑ ہا مخلوق غیر اللہ کے آگے جھکائی جا رہی ہے۔کوئی عیسی کو خدا بنا رہا ہے اور کوئی عزیر کو۔عبد ا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ میرے مالک کی چیز غیروں کے پاس پہنچائی جارہی ہے۔لیکن بہت ہیں جو فرض کو نہیں سمجھتے مثلاً لوگوں پر چندہ مقرر ہے وقت پر