خطبات محمود (جلد 5) — Page 506
خطبات محمود جلد (5) اس میں یہ حکمت ہے کہ جب خدا سے مانگنے لگو تو صفت ربوبیت کا ضرور واسطہ دو۔دوسرے اظہار تشکر کیلئے اس میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتلایا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ للناس تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے فائدے کیلئے لائے گئے ہو يَدُعُونَ إِلَى الْخَيْرِ لوگوں کو اسلام کی طرف بلا نا تمہارا کام ہے اور تمہارے قیام کی غرض لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔الناس میں کسی خاص گروہ کی طرف اشارہ نہیں کسی جگہ کے لوگ ہوں۔جن عالموں سے امت محمدیہ کا تعلق ہے وہ تمام الناس میں داخل ہیں جن کے فائدہ کے لئے امت محمدیہ کو کھڑا کیا گیا ہے۔اب بہت سی ایسی قومیں ہیں جو غیر اللہ کی حمد کرتی ہیں۔ہر ایک قوم نے خدا کے سوا اور بھی ارباب بنا رکھے ہیں مگر جن کو وہ رب بنا رہے ہیں ان سب کی ربوبیت بھی خدا رب العالمین کے ہاتھ میں ہے پس سب کا رب العالمین ہونے کے لحاظ سے حمد کا مستحق خدا ہے نہ کوئی اور اب مسلمانوں کو متوجہ کرتا ہے کہ جب خدا رب العالمین ہے اور تم لوگوں کے فائدہ کے لئے لائے گئے ہو اور تم یہ بھی دیکھ رہے ہو کہ خدا کا حق غیروں کو دیا جارہا ہے پھر تم کس طرح شکر یہ ادا کر سکتے ہو۔غور کرو تو معلوم ہوگا کہ حقیقی حمد چاہتی ہے کہ بجائے نفسی نفسی کے تمام وہ لوگ جو حقیقی معبود اور حقیقی رب کی بجائے دوسرے لوگوں کی حمد کر رہے ہیں ان تمام کو غیر اللہ سے ہٹا کر خدا کی طرف لایا جائے اور وہ لوگ اپنے رب کو پہچانیں اس کی نعمتوں کی قدر کریں۔اور اسکی اسی طرح حمد کریں جس طرح خود مومن کرتے ہیں ورنہ مومن اسوقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک تمام جہان صرف اللہ رب العلمین کی طرف نہ ٹھک پڑے اور اسکی طرف متوجہ نہ ہو جائے۔مومن کو راحت نہیں ہو سکتی جب تک وہ خدا سے روٹھنے والے بندوں کو خدا کے حضور لا کر نہ جھکا دے۔اب جب یہ کام کر چکے مومن خوش ہو سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ الحمد للہ کہ وہ کام جو میرے ذمہ بوجہ اس نعمت کے جو خدا نے مجھ کو دی تھی یعنی مجھکو تمام لوگوں پر اس لئے فضیلت دی تھی کہ میں لوگوں کو حق پہنچاؤں وہ میں نے پورا کر دیا۔اس طرح کبھی حقیقی شکریہ ادا نہیں ہو سکتا کہ خود ہدایت لے کر اور خاموش ہو کر گھر میں بیٹھ جاؤ۔۔۔۔جب ایک دہر یہ موجود ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا منکر ہے ہم اسکی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے وہ خدا کی حمد نہیں کرتا۔چاہیے کہ دہریہ کو بتایا جائے کہ خدا ہے