خطبات محمود (جلد 5) — Page 497
خطبات محمود جلد (5) ۴۹۶ اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ اے مومنو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلوں پر فرض کئے گئے تم یہ نہ سمجھنا کہ یہ کوئی نئی بات ہے۔نئی نہیں اس پر کہا جاسکتا تھا کہ ہم مانتے ہیں پہلے لوگوں پر روزے فرض تھے اور انہوں نے اس بوجھ کو اٹھایا تھا۔لیکن انہوں نے غلطی کی تھی ہم پر یہ بوجھ نہ ڈالا جائے اگر پہلوں پر ڈالا گیا اور انہوں نے اٹھا لیا تو یہ انکی بے عقلی تھی اس کے متعلق فرمایا دیکھو یہ نہ پہلوں پر بوجھ تھا نہ ان کو مجبور کیا گیا تھا اور نہ اب تم پر بوجھ ہے اور نہ تم کو مجبور کیا جاتا ہے۔بلکہ اس کی غرض یہ ہے کہ تم اس آفت سے بچ جاؤ جو لوگوں پر انکی ہلاکت اور تباہی کے لئے اس وقت آتی ہے جب وہ خدا کی طرف سے بالکل غافل اور بے پروا ہو جایا کرتے ہیں۔پس یہ ہرگز مت سمجھو کہ تم پر کوئی بوجھ لا دا گیا ہے ہر گز نہیں بلکہ یہ تو تمہارے ہی فائدہ کے لئے ہے۔اس سے بتلایا گیا ہے کہ روزے ان ابتلاؤں میں سے ہیں جن کا ہلکا اور آسان کرنا بندہ کے اختیار میں ہے جولوگ اس ابتلاء میں پورے اترتے ہیں وہ جسمانی اور روحانی کئی قسم کے ایسے ابتلاؤں سے بچ جاتے ہیں جو ان ابتلاؤں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں لازمی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزے اس حکمت کے لئے ہیں کہ تم سخت اور ہلاک کر نیوالی آزمائشوں سے بچ جاؤ۔لیکن جو انسان ان امتحانوں کو اپنے اوپر جاری نہیں کرتا اس پر خود خدا تعالیٰ اپنے امتحان بھیجتا ہے جن کے سامنے وہ کچھ نہیں کر سکتا۔دیکھو ایک استاد کبھی طالب علم کو کہتا ہے کہ اپنے کان کھنچو۔یا اپنے منہ پر آپ تھپڑ مارو۔اگر طالب علم اپنے منہ پر آپ تھپڑ مارے تب تو خیر لیکن اگر خود تھپڑ مارنے یا خود کان کھینچنے سے انکار کرے تو پھر استاد مارتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ استاد وہ نرمی روا نہیں رکھے گا جو خود طالبعلم اپنے اوپر روا رکھ سکتا تھا اسی طرح جو لوگ ان ابتلاؤں کی پروا نہیں کرتے جو خدا نے انسان کے ہاتھ میں چھوڑے ہیں تو پھر خدا کی طرف سے ایسے ابتلاء آتے ہیں جن سے ہلاک کئے جاتے ہیں۔میں اپنی جماعت کے لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کیونکہ میں دیکھ رہا