خطبات محمود (جلد 5) — Page 493
خطبات محمود جلد (5) ۴۹۲ 63 اختیاری امتحانوں میں پورے اُترو فرموده ۲۲ جون ۱۹۱۷ء تشھد وتعوذ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی :- يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون اور فرمایا:- (البقره: ۱۸۴) خدا تعالیٰ کی طرف سے بندہ کی آزمائش کے لئے دو قسم کے امتحان ہوتے ہیں۔ایک وہ جن میں بندہ کا اپنا دخل ہوتا ہے اور دوسرے وہ جن میں بندہ کا دخل نہیں ہوتا۔بلکہ ان امتحانات کا تمام سامان خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا جاتا ہے۔جو امتحانات بندہ کے اختیار میں ہیں ان میں اس کی ہمت کا اُسے ثواب ملتا ہے اور جو امتحانات خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ رکھے ہیں ان میں انسان کو صبر کا ثواب ملتا ہے۔انسان کے ہاتھ میں جو امتحانات ہیں وہ نماز روزہ حج زکوۃ۔صدقہ و خیرات اور دین کی خدمت ہے۔اگر دشمن تلوار سے اسلام کو مٹانا چاہے تو تلوار سے اور اگر مال سے نقصان پہنچانا چاہے تو مال سے اور اگر قلم و زبان سے حملہ آور ہوتو قلم وزبان سے اس کا مقابلہ کیا جائے۔ان امتحانوں میں بہت سی سہولتیں ہیں اور انسان ان میں بہت سی آسانیاں پیدا کر لیتا ہے مثلاً نماز ، اگر اسکے پڑھنے کیلئے ٹھنڈے پانی سے وضو کرنے میں تکلیف ہو تو گرم پانی استعمال کر لیتا ہے۔اگر جسم کو سردی کی تکلیف ہو تو گرم کپڑے پہن لیتا ہے۔یا اگر گرمی کے باعث