خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 462

خطبات محمود جلد (5) ۴۶۱ اپنی ٹانگوں کی قدر معلوم ہوتی ہے۔اور جب انسان اندھے کو دیکھتا ہے تو اپنی آنکھوں کی قیمت معلوم ہوتی ہے۔جب تاریکی کو دیکھتا ہے تو روشنی اور نور کی قدر معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح وہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نے ایک نبی کی معرفت دی ہو وہ جب ایک طرف دیکھتی ہے کہ خُدا نے اسے ایک نبی کی معرفت کی توفیق دی ہے اور دوسری طرف اسے یہ دکھائی دیتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کو یہ توفیق حاصل نہیں ہوئی۔اور وہ اس نعمت سے محروم پڑے ہیں تو اس وقت اسے حقیقی خوشی کا احساس ہونے پر جہاں اس کے منہ سے بے اختیار الحمدللہ کا کلمہ نکلتا ہے وہاں محروم رہنے والے لوگوں کو دیکھ کر حسرت و افسوس کے کلمات بھی نکلتے ہیں کہ افسوس یہ قوم نبی وقت کی شناخت سے محروم رہی جاتی ہے۔پس میں نے جو سورہ فاتحہ پڑھی ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے کہ ہمیں اپنے نبی کی معرفت کی توفیق دی ہے۔لیکن جب ان لوگوں کی طرف نظر جاتی ہے جو اس نبی پر جنسی کر رہے ہیں تو زبان سے یہ حسرت بھر اکلمہ نکلتا ہے کہ افسوس بندوں پر کہ ان کے پاس کوئی ایسا نبی نہ آیا جس پر انہوں نے ہنسی نہ کی ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لِحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يستفزون۔حسرت کہتے ہیں کسی کھوئی ہوئی چیز پر جو رنج پیدا ہوتا ہے۔لیکن انسانوں اور خُدا کی حسرت میں فرق ہے۔انسانوں کی حسرت تو یہ ہے کہ جب ان کی کوئی چیز کھوئی جاتی ہے۔تو وہ اس پر رنج کے ساتھ افسوس کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ ان کا نقصان ہو گیا ہوتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کے حسرت کرنے کے یہ معنے نہیں کہ نبی کے ساتھ استہزاء کرنے سے اس کا کچھ نقصان ہو گیا ہے۔جس پر خدا تعالیٰ افسوس کر رہا ہے۔بلکہ خدا تعالیٰ کا حسرت کا اظہار کرنا محبت کی علامت ہوتی ہے کہ افسوس یہ بندے اپنی اصلاح کر کے ہلاکت سے بچ سکتے تھے۔مگر باوجود اس کے کہ ہم نے ان کو اصلاح کرنے کے ذرائع بتائے لیکن انہوں نے بجائے ان کی قدر کرنے کے الٹا ان سے ہنسی مذاق اور استہزاء شروع کر دیا۔اگر ایسا نہ کرتے تو اس میں ان کا ہی فائدہ تھا۔پس یہ حسرت خدا تعالیٰ کے کسی نقصان پر دلالت نہیں کرتی۔بلکہ اس محبت کا اظہار کرتی ہے جو اسے اپنے بندوں سے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔افسوس ہے بندوں پر کہ ہم نے ان کے پاس کوئی نبی اور رسول نہ بھیجا جس کے ساتھ انہوں نے جنسی اور مذاق نہ کیا۔ہمیشہ بندوں کا طریق یہی رہا۔تمام خدا کے رسولوں میں سے کوئی ایک بھی مثال پیش نہیں کی جاسکتی جس پر ان لوگوں نے ہنسی نہ کی ہو۔اس کی ہر ایک بات کو حقیر نہ جانا ہو۔اس کی تعلیم پر انہوں نے ہنسی کی اس کی پیشگوئیوں پر