خطبات محمود (جلد 5) — Page 461
۴۶۰ 57 خطبات محمود جلد (5) ایسا کوئی رسول نہیں آیا جس سے استہزاء نہ کیا گیا ہو فرموده ارمئی ۱۹۱۷ء حضور نے تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی:۔يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ (يس: 31) فرمایا: - بظاہر تو شاید کسی کو یہ بات بے جوڑ معلوم ہو کہ میں نے سورۃ فاتحہ کے ساتھ کہ جس کی ابتداء بسم اللہ کے بعد الحمد للہ سے ہوتی ہے۔اور جو مومنوں سے بڑے بڑے عظیم الشان وعدے کرتی ہے۔دوسری ایسی آیت پڑھی ہے جس میں ایسے مضامین بیان کئے گئے ہیں جو درد پیدا کرنے والے اور دُکھ کا اظہار کرنے والے ہیں۔سورۃ فاتحہ تو اس طرح شروع ہوتی ہے۔خدا کا شکر ہے جو ایسا خُدا ہے۔اور جس کی یہ تعریفیں ہیں۔اور دوسری آیت میں یہ مضمون ہے کہ افسوس بندوں پر کہ ان کے پاس کوئی ایسا رسول نہیں آیا۔جس کو انہوں نے ہنسی اور ٹھٹھے میں نہ اڑایا ہو۔بظاہر تو ان آیات میں کوئی تعلق نہیں معلوم ہوتا۔لیکن میرے نزدیک بہت بڑا تعلق ہے۔خوشیاں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔اور ہر ایک قسم کی خوشی کا احساس مختلف طریقوں سے ہوتا ہے جب کوئی رنج کی بات ہو تو اس کے مقابلہ میں ایک خوشی بھی ہوتی ہے۔اور ایسی خوشی کی قدر بہت زیادہ ہوتی ہے۔مثلاً ایک ایسا شخص ہو جس نے کبھی اندھا نہ دیکھا ہو تو اس کو آنکھوں کی قدر نہ ہوگی۔جیسی اس شخص کو ہوگی جس نے اندھے کو ٹھوکریں کھاتے اور تکلیف اٹھاتے دیکھا ہوگا اسی طرح جس نے لنگڑا نہ دیکھا ہو۔اس کو ٹانگوں کی ایسی قدر نہیں ہوگی جیسی اس شخص کو ہوگی جس نے لولے لنگڑوں کو دُکھ اُٹھاتے دیکھا ہوگا۔اسی طرح جس شخص نے کوئی پاگل نہ دیکھا ہو۔اس کو ہوش و حواس کی ایسی قدر نہ ہوگی جیسی اس کو ہوگی جس نے کسی پاگل کی دردناک حالت دیکھی ہوگی۔اسی طرح جس نے جاہل کو نہ دیکھا ہوگا اس کو علم کی قدر نہ ہوگی۔جس شخص نے کبھی تاریکی اور ظلمت کو نہ دیکھا ہو اس کو روشنی کی قدر نہ ہوگی۔لیکن جب انسان لنگڑے کو دیکھتا ہے تو اس کو