خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 460

خطبات محمود جلد (5) ۴۵۹ مومن پیدا ہو گئے تو اب یہ بتانا تھا کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے! اس لئے فرمایا۔وہ لوگ جو اس کے پاس آجاتے ہیں اُن سے نہایت ہی شفقت۔رافت۔محبت۔رحم وکرم کا سلوک کرتا ہے۔بعض لوگ تو جمع کرتے تک اچھا سلوک کرتے ہیں۔جب ان کے قبضہ میں لوگ آجاتے ہیں تو پھر ان کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔لیکن آپ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ نہایت ہی شفقت سے پیش آتے ہیں۔اور آپ ان کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔یہ ایک کرشمہ ہے نبی کریم کے ان اعلیٰ اخلاق اور اعلی محاسن کا جو قرآن شریف میں بیسیوں جگہ ذکر ہوئے ہیں۔پس غور کرو کیسا ہے وہ انسان اور کتنا بڑا ہے اس کا رتبہ جو لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ان پر کس قدر افسوس ہے۔دیکھو آج ہمیں مسیح موعود ملا تو اس کے طفیل۔حضرت مسیح موعود کی بعثت اسی کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔آپ کی اُمت بگڑ چکی تھی۔اور ضرورت تھی کہ آپ کا کوئی خادم اُٹھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت اس میں کام کرے اس لئے حضرت مسیح موعود آنحضرت کی روحانیت سے مبعوث ہوئے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اگر باوجود ان تمام خوبیوں کے لوگ توجہ نہ کریں۔تو کہد وفان تولوا فقل حسبى الله لا إله الا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظیم۔مجھے تو تمہاری کوئی پروا نہیں۔خواہ تم سب کے سب پرے ہٹ جاؤ۔میں تو موحد ہوں۔اور ایک زندہ خُدا کا ماننے والا ہوں۔اسی نے مجھے یہ رتبہ دیا ہے اور وہی میرے درجہ کو ظاہر کریگا۔چنانچہ اب جبکہ مسلمانوں نے اپنے ایسے عقائد بنا لئے جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہے۔اور آپ کو بالکل چھوڑ دیا تو خدا تعالیٰ نے آسمان سے ایک ایسا مرسل بھیجا جس نے آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل شان لوگوں کے سامنے رکھ دی۔اب اگر کوئی مقابلہ کر دیگا تو اس کا کچھ نقصان نہیں ہوگا۔بلکہ اسی کا نقصان ہوگا جو مقابلہ پر آئے گا۔فرما یا کہ اگر یہ لوگ تجھ سے پھریں تو کہدو کہ میرا تو سوائے اللہ کے کسی پر بھروسہ نہیں وہی رب عرشِ عظیم ہے وہ میری صداقت کے پھیلانے کا سامان پیدا کر دیگا۔چنانچہ جب مسلمانوں نے اس رب عرش عظیم پر توکل کر نیوالے کی ہتک کی تو خُدا نے ایک مرسل کو بھیجا جو اسکی عظمت و شان کو دنیا پر ظاہر کرے۔اب خدا اپنی فوجوں سے اس کی مدد کریگا اور دنیا نے اگر قبول نہیں کیا تو خدا اسے قبول کر یگا اور بڑے زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کر دیگا۔اللہ تعالیٰ ہمارے تمام دوستوں اور تمام ان لوگوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دم بھرتے ہیں۔اس بات کی سمجھ اور معرفت دے کہ وہ اس عظیم الشان انسان کو پہچانیں اور جانیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ کیا تھا۔اور مخالفین کی آنکھیں کھلیں کہ وہ کس درجہ کا انسان تھا۔جو خدا نے دنیا میں بھیجا تھا۔الفضل ۱۹ / ۱۵ مئی ۱۹۱۷ء)