خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 446

خطبات محمود جلد (5) ۴۴۵ کی یہی خواہش اور کوشش ہونی چاہئیے کہ میں دوسرے سے بڑھ جاؤں۔اور ہر ایک کہے کہ بھئی تم تکلیف نہ اٹھاؤ۔یہ کام میں کرتا ہوں۔یہ ایک ایسا اصل ہے جس کے نہ سمجھنے کے سبب سے بہت سی قومیں ترقی کے میدان میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔مسلمانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ تم میں سے ہر ایک کی یہ آرزو ہو کہ میں ہی غلبہ پاؤں۔اور میں ہی اس کام میں زیادہ حصہ لوں یا اگر کسی سے کوئی تکلیف پہنچے اس کے بدلہ میں اس کے ساتھ نیکی کر کے صبر میں بڑھنے کی کوشش کرنا چاہئیے۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی کسی کے متعلق بات کرے تو وہ کہے کہ اس نے میری ہتک کی ہے۔اب میں بھی اس سے انتقام لوں۔یا یہ کہ جب قربانی کا موقعہ آئے تو یہ نہ ہو ہر ایک دوسرے کو کہے کہ آپ آگے بڑھیں۔اور آپ یہ کام کریں۔بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر ایک یہی کہے کہ میں اس کام کو کروں گا اور میں ہی سب کے آگے بڑھوں گا۔اس طرح ہر ایک اپنے اپنے فوائد کو قربان کرے یہ نہ ہو کہ ہر ایک دوسرے کے مقابلہ میں اپنے فوائد کو مقدم کرے۔حضرت صاحب دو صحابیوں کے متعلق ایک بات سناتے تھے۔میں نے تو ان کا حال کسی کتاب میں نہیں پڑھا۔مگر چونکہ حضرت صاحب سناتے تھے اس لئے بیان کرتا ہوں۔ایک بازار میں گھوڑا بیچنے کے لئے لایا۔دوسرے نے اس سے قیمت دریافت کی۔اس نے کچھ بتائی لیکن خریدنے والے نے کہا۔نہیں اس کی یہ قیمت ہے۔اور جو اس نے بتائی وہ بیچنے والے کی بتائی ہوئی قیمت سے زیادہ تھی۔لیکن بیچنے والا کہے میں تو وہی قیمت لوں گا۔جو میں نے بتائی ہے اور خریدنے والا کہے نہیں میں یہی قیمت دوں گا جو میں نے قرار دی ہے۔یہ تو صحابہ کا ایک معمولی واقعہ ہے۔وہ لوگ تو ہر ایک نیکی کے میدان میں ایک دوسرے سے بڑھنا چاہتے تھے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔تم نیکی میں ایک دوسرے سے بڑھو اگر ایک دین کا کوئی کام کرے تو تم کوشش کرو کہ اس سے بھی بڑھ کر کرو اور دوسرے کے مقابلہ میں اپنے نفس کو قربان کرو۔صحابہ کی عجیب شان ہے۔ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مہمان آئے آپ نے صحابہ میں ایک ایک کر کے تقسیم کر دیئے۔ایک صحابی دو مہمانوں کو اپنے گھر لے گئے۔بیوی سے کھانے کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا صرف دو آدمی کا کھانا ہے جو صرف بچوں کے لئے ہے لیکن میں ان کو سلا دیتی ہوں۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔لیکن پھر یہ خیال ہوا کہ یہ مہمان اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک کہ ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر نہ کھا ئیں گے۔مگر کھانا اتنا نہیں کہ سب کے لئے کافی ہو سکے۔اس لئے وہ بھوکے رہ جائیں گے اس کے متعلق صحابی نے بیوی کو کہا