خطبات محمود (جلد 5) — Page 437
خطبات محمود جلد (5) ۴۳۶ اس آیت میں مسلمانوں کو شرک سے بچنے کی تعلیم دینے کے علاوہ یہ بھی نصیحت کی گئی ہے کہ اگر تم کوئی دینی خدمت کرتے ہو تو یہ خُدا تعالیٰ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایسا موقعہ دیا کہ تم خُدا پر یا اس کی طرف سے جو جماعت کے انتظام کے لئے مقرر کیا جاتا اس پر کوئی احسان جتلاؤ۔ایسا کرنے والے ہمیشہ ہلاک اور تباہ ہوا کرتے ہیں۔دیکھ لو ہم میں سے ابھی جو لوگ علیحدہ ہوئے ہیں وہ کون تھے۔وہی تھے جنہوں نے کوئی کام کیا اور کہا کہ ہم نے بڑی بڑی دینی خدمتیں کی ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان کو اپنی جماعت سے نکال کر اس طرح باہر پھینک دیا جس طرح دودھ سے لکھی۔ابھی مولوی محمد احسن صاحب جُدا ہوئے ہیں۔ان کی بھی یہی حالت تھی کہ بڑا فخر کیا کرتے اور کہتے تھے کہ میں نے یہ کیا وہ کیا۔چونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات سخت نا پسند ہے کہ کوئی انسان اس پر احسان رکھے۔اس لئے ایسے انسان ہمیشہ گرائے اور نیچے پھینکے جاتے ہیں۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو خاص طور پر یہ نصیحت کرتا ہوں کہ گو وہ حصہ جو خطرناک طور پر اس مرض میں گرفتار تھا وہ نکل گیا ہے۔مگر ابھی تک کچھ نہ کچھ ہے ہی۔بعض کہتے ہیں ہمیں فلاں حق کیوں نہیں دیا گیا اور ہم سے فلاں قسم کا سلوک کیوں نہیں کیا گیا۔میں کہتا ہوں۔جب وہ دینی خدمت کرتے ہیں تو پھر حق کیسا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ایک جنگ کے موقعہ پر جبکہ حضرت عمرؓ۔خالد اور ابو عبیدہ جیسے نامور اشخاص لشکر میں شامل تھے۔اسامہ بن زید کو لشکر کا سپہ سالار بنایا گیا تھا جس کی عمر ۱۸ سال کی تھی۔اور جس نے کوئی خدمت نہ کی تھی مگر بڑے بڑے صحابہ میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہ کہا کہ ہماری خدمات کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔واقعہ میں ہر ایک مومن کو ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ جب اللہ کے لئے دینی خدمت کی جائے تو پھر اس کے کیا معنی کہ ہماری خدمات کا لحاظ نہیں کیا گیا۔اللہ تعالیٰ تو انسانوں کو پہلے دیتا ہے اور اس کے بعد وہ اس کے راستہ میں کچھ صرف کرتے ہیں۔ایک نوکر اپنے آقا کی خدمت آئندہ ملنے والی تنخواہ کے لئے کرتا ہے مگر انسان جو اللہ تعالیٰ کے لئے کام کرتا ہے۔وہ اس انعام کے بدلہ کرتا ہے جو اسے پیشتر مل چکا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ چونکہ احد ہے۔انسان اگر کسی سے کچھ کام لیتے ہیں تو اس چیز کے بدلے بعد میں دیتے ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں کو جو کام بتلاتا ہے وہ اس کے بدلے میں ہے جو انہیں دے چکا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔قومی دیئے دولت علم عقل و ہمت دی۔اس کے بعد کہتا ہے کہ ان میں سے کچھ ہمارے راستہ میں خرچ کرو۔اللہ تعالیٰ یہ نہیں کہتا کہ پہلے تم کوئی کام کرو تو پھر میں تمہیں یہ چیزیں دوں گا۔کیونکہ ہر ایک چیز اس کی محتاج ہے۔جب ہر چیز محتاج ہوئی۔تو جب تک وہ چیزیں نہ دے اس وقت تک کوئی کام کس طرح کر سکتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ پہلے 1:- بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب مناقب زید بن حارثہ۔