خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 420

خطبات محمود جلد (5) ۴۱۹ پس استکبار سے بہت بچنا چاہئیے۔دیکھو جب ابلیس نے تکبر کیا اور کہا انا خیر منہ(ص:۷۷) کہ میں اس آدم سے بہتر ہوں تو خدا تعالیٰ نے اس سے وہ بزرگی جس کے باعث اس نے یہ دعویٰ کیا تھا چھین لی۔اور ہر ایک اس طرح کرنے والے سے خُدا تعالیٰ یہی سلوک کرتا ہے؟ کیوں؟ اس لئے کہ تکبر کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں پر تکبر کا اظہار کیا جاتا ہے وہ فتنہ میں پڑ جاتے ہیں۔اور کسی کو فتنہ میں ڈالنے والے انسان پر خُدا تعالیٰ بڑی سخت ناراضگی کا اظہار کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے:۔اِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُو بُوا فَلَهُمْ عَذَابٌ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ کہ جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو فتنہ میں ڈالا ان کے لئے جہنم کا عذاب اور جلنے کا عذاب ہے۔پس یہ کوئی معمولی بات نہیں۔بلکہ بہت بڑی بات ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ ایسا سخت عذاب بیان فرماتا ہے۔لیکن بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ایسی باتوں کو معمولی اور چھوٹا خیال کرتے ہیں۔لیکن جو لوگ دوسروں کی عیب چینیاں کرتے ہیں۔ان کی ابتداء ابلیس سے ہے۔اور انتہا جہنم ہے۔پس جس کی وجہ سے کوئی شخص فتنہ میں پڑتا ہے وہ جہنم کا وارث بنتا ہے۔مگر کس قدر تعجب کا مقام ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جو شراب پینے اور چوری کرنے والوں کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔مگر جب کوئی عیب چینی کرے دوسروں کو ذلیل جانے اور ان پر اپنا فخر جتائے تو کہدیتے ہیں کہ یہ بڑا آدمی ہے۔پھر ہنسی ہنسی میں دوسروں کو کمینہ اور رذیل وغیرہ کہدیتے ہیں۔جس کا نتیجہ نہایت خطرناک ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُو بُوا فَلَهُمْ عَذَابٌ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ پس یہ جرم کوئی معمولی اور چھوٹا جرم نہیں۔بلکہ بہت بڑا ہے اور انسان کو کافر اور جہنمی بنادیتا ہے۔پھر اگر کوئی کہے کہ میں فلاں ذات کا آدمی ہوں جو بڑی معزز ہے۔اور دوسرار ذیل قوم کا ہے اور اس طرح اس کی تحقیر کرے تو یہ محض جہالت اور نادانی ہے اگر کوئی خدا تعالیٰ کی نعمت کے شکریہ کے طور پر کہے تو اور بات ہے۔ورنہ جو دوسروں کو حقیر سمجھ کر کہتا ہے کہ ہم مغل یا پٹھان یا سید ہیں۔اور تم فلاں ذات کے ہو۔جور ذیل ہے تو اس کا یہ فعل نہایت لغو اور بے ہودہ ہے۔اس طریق سے اپنی ذات پر فخر کرنا میری سمجھ میں تو کبھی نہیں آیا۔کیونکہ ذاتوں کی حفاظت کا صحیح ثبوت کوئی نہیں دے سکتا۔بلکہ