خطبات محمود (جلد 5) — Page 388
خطبات محمود جلد (5) ۳۸۷ مدد کے لئے لڑوں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کروں یا اسلام کے مخالفین کو تہ تیغ کروں بلکہ میں اس لئے لڑتا رہا ہوں کہ میری اس قوم سے ایک پرانی ذاتی عداوت تھی۔جس کے نکالنے کا آج مجھے موقع ملا تھا۔اس لئے میں لڑا ہوں۔تھوڑی دیر بعد جو اسے زخموں کی سخت تکلیف ہوئی اور اس شدت سے ہوئی کہ وہ برداشت نہ کر سکا۔تو اس نے زمین میں برچھا گاڑ کر اس پر پیٹ رکھ کر خود کشی کر لی اور ہلاک ہو گیا۔اسلام نے چونکہ خودکشی کو حرام قرار دیا ہے اور وہ اس کا مرتکب ہوا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات درست ثابت ہو گئی کہ وہ دوزخی تھا۔وہ صحابی جو اس کا انجام دیکھنے کے لئے اس کے ساتھ تھا یہ دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ اس وقت مجلس میں تشریف رکھتے تھے۔اس نے دُور سے ہی کہا۔اشھد ان لا اله الا اللہ واشهد ان محمدا عبدہ و رسولہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کیوں کہا ہے۔اُس نے جواب دیا۔یارسول اللہ جس شخص کی نسبت آپ نے فرمایا تھا کہ دوزخی ہے۔اس کے متعلق میں نے دیکھا کہ اس کی بہادری اور جرات کی وجہ سے بعض لوگوں کے دلوں میں ایک وسوسہ پیدا ہو رہا تھا۔اور وہ سمجھنے لگے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یونہی اس کے متعلق فرما دیا ہے۔اس وقت میں نے قسم کھائی کہ جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لوں اس کا پیچھا نہ چھوڑوں گا۔اب وہ خود کشی کر کے مرگیا ہے۔اور میں حضور کو یہ منانے آیا ہوں کہ حضور کی یہ بات درست نکلی۔یہ ٹن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا :- اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا عبده ورسوله پھر آپ نے فرمایا کہ اس بات کو خوب یا درکھو کہ ایک شخص دوزخیوں کے عمل کرتا ہے مگر اس کے قلب میں کوئی ایسی نیکی ہوتی ہے جو اسے انجام کار جنت میں لے جاتی ہے اور ایک شخص جنتیوں کے کام کرتا ہے مگر جب اس کی موت قریب آتی ہے تو اس کے دل میں کوئی ایسی برائی ہوتی ہے جو اسے کھینچ کر دوزخ میں لے جاتی ہے۔۔یعنی پہلا شخص موت کے قریب جنتیوں کے کام کرنے لگ جاتا ہے۔اور دوسرا دوزخیوں کے۔اس لئے پہلے کا خاتمہ باوجود ساری عمر دوزخیوں کے کام کرنے کے جنتیوں کی طرح ہوتا ہے۔اور دوسرے کا باوجود ساری عمر جنتیوں کے کام کرنے کے خاتمہ دوزخیوں کی طرح ہوتا ہے۔کیونکہ وہ دوزخیوں کے کام کرنے لگ جاتا ہے۔یہ واقعہ سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے۔اس سورہ میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو یہ دعا سکھلاتا ہے کہ اياك نعبد و اياك نستعين اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت ا : بخاری کتاب المغازی باب غزوہ خیبر۔:- بخاری کتاب القدر باب العمل بالخواتیم۔