خطبات محمود (جلد 5) — Page 387
۳۸۶ 46 خطبات محمود جلد (5) مولوی محمد احسن صاحب کی خلاف بیانی (فرموده ۹ فروری ۱۹۱۷ء) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے یہ آیت تلاوت فرمائی:۔إنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ فرمایا۔انسان کی حالت کچھ ایسی نازک اور کمزور ہے کہ ایک ذراسی ٹھوکر سے اس کی کل ٹوٹ جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص بڑے جوش اور زور کے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے کفار کے ساتھ لڑا اور ایسے زور سے لڑا کہ مسلمان اس پر رشک کرنے لگے۔اور اس کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس کے متعلق فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اس دنیا میں چلتا پھرتا دوزخی دیکھنا ہو تو اس کو دیکھ لے۔اس بات سے صحابہ کو بہت حیرت ہوئی کہ یہ تو بہت مخلص اور جوشیلا معلوم ہوتا ہے۔اور جنگ میں خطر ناک سے خطرناک جگہ پہنچ کرحملہ کرتا ہے۔پھر اس نے اس بہادری اور دلیری سے کفار کو قتل کیا کہ باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دوزخی قرار دیا تھا۔بے اختیار صحابہ کے منہ سے یہ نکلتا کہ اللہ تعالیٰ اس کو جزائے خیر دے۔اور قریب تھا کہ بعض نئے اسلام لانے والے ٹھوکر کھا جاتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا وجہ اس کو دوزخی کہا ہے۔کہ اس وقت ایک صحابی اُٹھے اور قسم کھائی کہ جب تک میں اس شخص کا انجام نہ دیکھ لوں۔اس کا پیچھا نہ چھوڑوں گا۔یہ کہکر وہ اس کے پیچھے ہو گئے۔اور اُسے دیکھتے رہے۔لڑائی میں اسے بہت سے زخم لگے۔حتی کہ زخموں کی وجہ سے وہ گر گیا۔شدت درد کے وقت لوگ اس کے پاس آتے اور کہتے کہ تجھے جنت کی بشارت ہو۔لیکن وہ کہتا مجھے جنت کی بشارت نہ دو بلکہ دوزخ کی دو تم تو مجھے جنت کی بشارت اسلئے دیتے ہو کہ میں بڑی بہادری سے لڑا ہوں اور خطر ناک سے خطرناک جگہ حملہ کرتا رہا ہوں۔لیکن تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ میں کس نیت سے لڑ رہا تھا۔میرے لڑنے کی یہ غرض نہ تھی کہ اسلام کی تائید اور :۔النحل:۹۱