خطبات محمود (جلد 5) — Page 386
خطبات محمود جلد (5) ۳۸۵ لیکن اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو جماعت کے لوگ خود بخود اس سے الگ نہ ہوں۔بلکہ ان کو چاہیے کہ وہ یہاں لکھ بھیجیں۔اگر خود بخود ایسا کریں تو یقینی بات ہے کہ وہاں کی جماعت کے دو ٹکڑے ہو جائیں گے۔کچھ بائیکاٹ کرنے والوں کے ساتھ ہوں گے۔اور کچھ اس شخص کے ساتھ جس کو الگ کیا جائے گا۔اس طرح بہت فتنہ ہوتا ہے۔اس میں نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔یہاں سے کسی کے متعلق جو فیصلہ ہو اس پر عمل کیا جائے۔اور خود بخو د کوئی فیصلہ نہ کر لیا جائے۔اگر اس طرح کھلا چھوڑ دیا جائے تو جماعت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔پس میں خاص طور پر اپنی جماعت کے لوگوں کو تنبیہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے اس قسم کے فتووں کو روکیں کہ فلانا احمدی نہیں رہا۔اور جماعت سے الگ ہو گیا۔اب اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیئے۔جو معاملہ ہو وہ ہم تک پہنچائیں۔خود بخو د فتویٰ دینا فتنہ کو بڑھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابٌ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ کہ جولوگ مؤمن مردوں اور عورتوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں اور پھر تو بہ نہیں کرتے ان کے لئے دوزخ کا اور جلا دینے والا عذاب ہے۔پس جس طرح کسی کا یہ حق نہیں کہ قاتل کو قتل کرے۔بلکہ سیاست و حکومت کے سپر دکرے اس طرح آپ لوگوں کا بھی فرض ہے۔جس کسی سے کوئی کمزوری صادر ہو۔اس کی اطلاع ہمیں دو۔تا کہ اس کا علاج کیا جائے۔اور خود بخو دکوئی فیصلہ نہ کرو۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اپنے فرائض کے سمجھنے کی توفیق دے اور ہماری جماعت سے ان امور کو اٹھا دے جو فتنہ کا موجب ہوں۔اور ان پر قائم کرے جو اتحاد کا موجب ہیں۔آمین الفضل ۲۰ فروری ۱۹۱۷ء) :- البروج: