خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 377

خطبات محمود جلد (5) غرض لا إلهَ إِلَّا الله اسلام کا ایک بیج ہے جو ایسی زمین میں پڑ کر پھل پھول نہیں لاسکتا جو اس کی اہل نہ ہو۔اگر ہم خدا کے فعل یعنی کائنات دنیا کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک چیز خدا کی ہستی کی محتاج ہے۔کوئی ایسی چیز نہیں جو قائم بالذات ہو۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو ایک دفعہ رویا میں لا إلهَ إِلَّا اللہ کے معنے سمجھائے گئے کہ دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اپنے وجود کے قیام کے لئے کسی دوسری چیز کی محتاج نہ ہو۔مگر خدا ایک ایسی ہستی ہے جو قائم بالذات ہی نہیں بلکہ قیوم بھی ہے یعنے دوسروں کو بھی قائم رکھنے والی ہے۔پس جو اشیاء اپنے وجود کے قیام کے لئے کسی دوسری چیز کی محتاج ہیں وہ اس بات کی اہل نہیں کہ ان کو خُدایا معبود کہا جائے۔اس سورۃ میں مسلمانوں کو یہی مضمون بتایا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی چیز قائم بالذات نہیں۔مثلاً چھت ہی ہے جو قائم نہیں رہ سکتی۔جب تک کہ دیواریں نہ ہوں۔چھت خواہ لوہے کی ہو۔مگر دیوار میں کمزور ہوں تو چھت کی مضبوطی کچھ کام نہیں دے سکتی۔کیونکہ چھت کا قیام اپنی مضبوطی کی بناء پر نہیں بلکہ اس کا قیام ہے دیواروں پر اور جب دیواریں کمزور ہیں تو چھت بھی گو یا کمزور ہی ہے۔اس کی جہاں دیوار میں گریں۔وہاں چھت بھی ضرور زمین پر آ رہے گی۔لیکن اگر دیوار میں ایسی ہیں جو ایک دو ماہ یا سال دو سال یا سوسال یا ہزار سال تک رہ سکتی ہوں تو چھت بھی اس مدت تک رہ سکتی ہے جو چیز کسی دوسری چیز کے سہارے پر قائم ہو وہ اس وقت تک قائم رہ سکتی ہے جب تک سہارا دینے والی چیز قائم کرنے مگر جونہی اس کا خاتمہ ہو اوہ بھی جاتی رہے گی۔چونکہ دنیا کی اشیاء میں انسان بھی داخل ہے اور وہ بھی دوسری چیزوں کے سہارے قائم رہتا ہے اس لئے اس پر بھی یہ بات عاید ہوتی ہے لیکن ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی خواہش ہے کہ وہ ہمیشہ قائم رہے۔اور ہر ایک انسان کے دل میں خواہش ہے اور اس خواہش سے کوئی دل خالی نہیں۔اور کوئی انسان نہیں جس کے دل میں یہ آرزو نہ ہو کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے۔اور فنا نہ ہو۔خواہ کوئی جاہل سے جاہل ہی کیوں نہ ہو۔مگر اس کی بھی یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے اور اس کو موت نہ آئے۔جب ہم حج پر گئے تو میر ناصر نواب صاحب سے ایک شخص ملا جو نہایت ضعیف تھا اور حج کو جا رہا تھا۔ایک دن میں نے اس کو مٹی کے مقام پر پوچھا کہ میاں عبد الوہاب یہ اس کا نام تھا۔تمہارا مذہب کیا ہے۔اس نے کہا کہ ٹھہر جاؤ سوچ کر بتاتا ہوں۔میں نے کہا مذہب کے متعلق سوچنے کی کونسی بات ہے۔جو تمہارا مذہب ہو بتا دو۔کہنے لگا جلدی نہ کرو بتاتا ہوں۔پھر کہنے لگا اچھا جب میں حج سے واپس جاؤں گا تو اپنے وطن سے مولوی صاحب سے پوچھ کر اپنا مذہب لکھوا بھیجوں گا۔میں نے کہا تم خود بتاؤ کہنے لگا اچھا ٹھہر و بتاتا ہوں۔میر امذہب اعظم ہے۔میں نے کہا میاں اعظم تو کوئی مذہب نہیں۔کہنے لگا ٹھہر جاؤ جلدی نہ کروسو چنے دو۔میرا مذہب علیہ علیہ ہے۔میں نے کہا کہ میاں یہ بھی کوئی مذہب نہیں۔آخر کہنے