خطبات محمود (جلد 5) — Page 352
خطبات محمود جلد (5) ۳۵۲ عائشہ نے روک دیا اور کہا کہ یہ کیا کرتے ہو اور کہا کہ کیا رسول اللہ کے وقت میں بھی اسی طرح ہوتا تھا جس طرح تم کرتے ہو۔حضرت ابو ہریرہ خاموش ہو گئے ا۔تو مساجد میں ہلا انتظام لیکچر شروع کر دینا یہ دوسروں کے لئے ابتلاء ہے۔بعض لوگ تقریر کے شور سے مجبور ہو کر اپنے نفل چھوڑ دیتے ہیں۔پس مساجد میں تقریروں کے لئے انتظام ہونا ضروری ہے۔اگر غیر احمدی اپنی مسجدوں میں حضرت صاحب کے دعویٰ بیان کرنے سے ہمیں روکیں تو وہ ہمیں روک سکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم نے عبادت کی اجازت دی ہے اور اس میں انسان کے اپنے خیالات کا دخل نہیں ہوتا۔جس طرح کسی کا عقیدہ ہو وہ اسی طرح کر سکتا ہے لیکن ہمیں تو عبادت کرنے سے روکا جاتا ہے اس لئے اس آیت کی رُو سے ہمیں مسجدوں سے روکنے والے غیر احمدی اظلم ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری جماعت حق پر ہے۔بعض لوگ ہمارے قرآن کریم کی آیت کو حضرت مسیح موعود کی صداقت کا معیار قرار دینے سے چڑا کرتے ہیں لیکن وہ بے شک چڑیں۔قرآن کریم بسم اللہ سے لے کر سورہ والناس تک حضرت مسیح موعود کی صداقت سے لبریز ہے کیونکہ قرآن کریم رسولوں کی صداقت کے نشان بتلاتا ہے اور حضرت مسیح موعود کا دعوی رسالت کا ہے پس آپ میں تمام انبیاء کے نشان پائے جاتے ہیں اس لئے جس قدر نبیوں کی شناخت کے معیار قرآن کریم میں ہیں وہ سب آپ پر بھی چسپاں ہوتے ہیں اور قرآن کریم جس طرح حضرت ابراہیم، نوع ، داؤد۔الحق ، یعقوب اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ظاہر کرتا ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود کے دعوئی کو ثابت کرتا ہے۔پس ہم سے لڑنے والا ہم سے نہ لڑے بلکہ خدا سے لڑے جس نے تمام معیار حضرت مسیح موعود کی صداقت میں رکھ دئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے دشمنوں کو اس امر کے سمجھنے کی توفیق دے کہ وہ ہمیں اپنی مسجدوں سے روک کر کونسا پہلو اختیار کر رہے ہیں۔وہ خوب یاد رکھیں کہ جو شخص مساجد سے روکتا ہے وہ دُنیا و آخرت میں کبھی عزت نہیں پاسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ دُنیا میں بھی ذلیل ورسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی۔پس وہ مسجدیں جن سے آج ہمیں روکتے ہیں وہ دن آتا ہے کہ اول بھی اور بعد بھی ہم ہی ان میں نماز پڑھنے پڑھانے والے ہوں گے۔ا مسلم باب الزہد باب التشبت في الحديث وحكم كتابة العلم۔(الفضل ورجنوری ۱۹۱۷ء)