خطبات محمود (جلد 5) — Page 351
خطبات محمود جلد (5) ۳۵۱ انگریزی تعلیم یافتہ میں کافر نہیں کہتے۔وہ شخص جو ہمیں بچے دل سے مسلمان کہے گا وہ ضرور احمدی ہو جائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے الَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔اللہ تعالیٰ قسم کھا کر فرماتا ہے کہ جو ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور ان کو ہدایت دیتے ہیں۔پس جو شخص ہمیں مسلمان کہے گا وہ یقینا احمدی ہو کر رہے گا۔اس موقعہ پر مظہر الحق کا ہمیں کا فر کہنا بھی ہمارے لئے ایک فتح ہے۔تعلیم یافتہ گروہ اس موقع پر ہمارے مقابلہ میں آیا ہے اور اس وقت ان کے بڑے سر گردہ نے ہمیں کا فرکہا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں بہت بڑا بغض ہے ورنہ ان لوگوں کا تو یہ رویہ ہے کہ یہ بظاہر کسی کو بھی برا نہیں کہتے بلکہ یہ تو اس کو تہذیب سمجھتے ہیں کہ کسی کی بُری بات کو بھی برا نہ کہا جائے اور ایک دوسرے کے عقیدہ کے متعلق کوئی بات نہ چھیڑی جائے۔غالبا اسی مظہر الحق نے ایک ہندوؤں کی مجلس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمانوں کو ہندوؤں سے فلسفہ سیکھنا چاہئیے یہ کسی کو بھی برا کہنا جائز نہیں جانتے۔لیکن ہمیں ان لوگوں کا مساجد سے روکنا اور کہنا کہ یہ لوگ بوجہ کافر ہونے کے مساجد سے رو کے جانے چاہئیں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ہمیں کا فر جانتے ہیں۔بعض لوگوں نے اس آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ جو کسی کے جی میں آئے مسجد میں کھڑا ہو کر کہہ دے لیکن یہ درست نہیں کیونکہ تقریر ہر مقرر کا اپنا خیال ہوتا ہے اس کا نام ذکر اللہ نہیں رکھا جا سکتا۔اس مسجد میں بھی بعض لوگ بولنا شروع کرتے ہیں اور دوسرے لوگ جو سنتیں یا اوراد پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کو تکلیف ہوتی ہے اس لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے تقریر اپنا ایک خیال ہے وہ ذکر اللہ نہیں۔اس طرح اگر کوئی پادری آئے اور مسجد میں تقریر شروع کر دے تو کیا یہ اس کا حق ہے۔ہرگز نہیں۔کیونکہ یہ تو ذکر اللہ نہیں۔لیکن اگر وہ اپنے طریق عبادت سے ہماری مسجد میں عبادت کرنا چاہے تو ہم اس کو بڑی خوشی سے اجازت دیں گے۔اگر چہ وہ طریق غلط ہے مگر ان کے ہاں چونکہ اسی طرح خدا کی عبادت کرتے ہیں اس لئے ہم اس کو نہیں روکیں گے۔آپ لوگوں کو یا درکھنا چاہیئے کہ ذکر الہی تسبیح وتحمید اللہ اکبر اونچا نہیں کہنا چاہیئے اس طرح دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے۔لیکن بعض لوگ اُونچی اونچی بول کر دوسروں کی نماز اور ذکر الہی میں حارج ہوتے ہیں۔آج سے میں اعلان کرتا ہوں کہ کسی شخص کو یہاں کی مسجدوں میں میری اجازت کے بغیر تقریر کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن ذکر الہی خواہ ہندو بھی کرنا چاہیں تو ہم ان کو اجازت دیں گے اور بڑی خوشی سے دیں گے۔ایک دفعہ حضرت ابو ہریرہ مسجد میں بیٹھے ہوئے اونچی آواز سے حدیث سنا رہے تھے حضرت العنكبوت: ۷۰ رض