خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 324

خطبات محمود جلد (5) ۳۲۴ ہے تو وہ اُن لوگوں سے اچھا ہے جو کچھ بھی نہیں دیتے۔مگر سوال یہ ہے کہ اُس نے خدا تعالیٰ کے انعامات کے مقابلہ میں کیا دیا ہے۔اُسے تو چاہئیے کہ اپنا مال اپنی جائیداد، اپنا وقت ، اپنی جان سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دے۔کیا اللہ تعالیٰ کے جو انعامات اُس پر ہوئے ہیں وہ اس قابل نہیں کہ وہ اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کے راستہ میں صرف کر دے۔ضرور ہیں۔اور ایسا ہی ہر ایک مومن کو کرنا بھی چاہیئے لیکن جو ایسا نہیں کرتا مجھے ڈر ہے کہ وہ اُن لوگوں میں سے نہ ہو جو اِنَّ عَذَابِي لَشَدِید کے نیچے آتے ہیں۔لڑتے تو یہودی بھی تھے۔انہوں نے کئی لڑائیاں لڑیں مگر ایک ہی دفعہ کے انکار سے ناشکروں میں گنے گئے اور چالیس سال پیچھے ڈال دئے گئے۔ان میں سے بہتوں نے خدا کے راستہ میں جانیں بھی دیں مگر ایک جگہ رہ جانے کی وجہ سے نا کام ہو گئے اور انہیں وہ ملک دیکھنا نصیب نہ ہو ا جس کا انہیں وعدہ دیا گیا تھا۔پس تم لوگ اپنی خدمت دین پر مت گھمنڈ کرو۔یہاں خدمت کا سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ تم نے انعام کے مقابلہ میں کیا خدمت کی ہے۔بس اس کی فکر کرو اور اپنے اعمال کو ایسا بناؤ جو خدا تعالیٰ کے انعامات کے مطابق ہوں۔اگر ہماری جماعت اس وقت ان ذمہ داریوں کو بجھتی جو اس کی ہیں تو یہ موجودہ حالت نہ ہوتی۔اگر ساری جماعت میں سے تیسرا حصہ بھی اپنے فرائض کو پوری طرح انجام دیتا تو بھی یہ حالت نہ ہوتی کہ آئے دن مختلف صیغوں کے آفیسر روپیہ کی کمی کی شکایت کرتے رہتے لیکن لوگوں نے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھا نہیں۔بعض تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا روپیہ کسی اور کام میں لگا ہوا ہے اس لئے دینے کے لئے کچھ نہیں۔بعض کوئی اور عذر کر دیتے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں کہتا کہ تم اپنا سارا مال میری راہ میں خرچ کر دو بلکہ یہی کہتا ہے کہ مِمَّا رَزَقُهُم يُنفِقُونَ لا جو ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کچھ ہمیں دو لیکن عجیب بات ہے کہ اس میں سے بھی خدا کی راہ میں دینے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص کسی کو ایک روپیہ دے اور اُسے کہے کہ اس میں تم سے دو پیسے تو مجھے لا دینا اور باقی اپنے پاس رکھ لینا لیکن وہ کہہ دے کہ میں تمہیں اس میں سے کچھ نہیں دوں گا پورا رو پید اپنے ہی پاس رکھوں گا۔اگر کوئی ایسا کرے تو یقینا تمام لوگ اس پر لعنتوں کا مینہ برسائیں گے۔مگر بہت ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ انہیں مال اموال دے کر کہتا ہے کہ اس میں سے کچھ میرے راستہ میں بھی خرچ کرو مگر وہ کہتے ہیں کہ کیا ہماری ضرورتیں کم ہیں کہ تیرے لئے خرچ کریں۔اگر ایسے لوگ سوچتے کہ ہمیں تو یہ سب کچھ دینے والا ہی یہ کہہ رہا ہے کہ کچھ میری راہ میں دو تو وہ ضرور دے دیتے کیونکہ وہ تو سارا بھی لے سکتا ہے مگر بہت کم ہیں ایسے لوگ جو اس بات کو سوچتے اور خدا کی راہ میں البقرة: ۵