خطبات محمود (جلد 5) — Page 293
خطبات محمود جلد (5) ۲۹۳ لوگوں کو دھو کہ لگتا ہے۔لیکن ایک درست بات کے متعلق کسی کو نہیں روکا جاسکتا۔اس مسئلہ کے متعلق بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ابھی اچھی طرح واقف نہیں ہوئے۔میرا خیال ہے کہ نبوت کے متعلق قرآن اور حدیث سے بحث کروں اور بتاؤں کہ قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے اور آئندہ بھی نبی آئیں گے۔یہ تو جب ہوگا۔ہوگا۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے وہ اس مسئلہ کے متعلق لکھتے رہیں۔غیر مبائعین سے مقابلہ اب صرف اسی بات پر آرہا ہے باقی سب طرفوں سے وہ بھاگ گئے ہیں اس لئے ہمارے علماء کو چاہیے کہ بار بار اس مسئلہ کے متعلق لکھتے رہیں۔میں نے حقیقۃ النبوۃ میں بہت کچھ لکھ دیا ہے لیکن ایک بڑی کتاب کو لوگ بار بار نہیں پڑھ سکتے لیکن اگر اخبار میں مختلف پیراؤں میں اس کے متعلق لکھا جائے تو پڑھتے رہیں گے۔میرے نزدیک تو اسلام کے لئے وہ دن موت کا دن ہوگا جبکہ تمام مسلمان یہ سمجھ لیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔میں تو ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال نہیں کر سکتا۔خط لکھنے والا ایک لکھتا ہے کہ میں نے ۱۸۸۹ء میں حضرت صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے اور دوسرا کہتا ہے کہ میں نے ۱۸۹۶ء میں بیعت کی ہے۔گویا اس لئے ہماری رائے وزن دار ہے کہ ہم نے فلاں سن میں بیعت کی ہے۔لیکن یہ دونوں شخص ایسے ہیں کہ جب سے انہوں نے بیعت کی ہے ایک ایک یا دو دو دفعہ یہاں آئے ہیں۔میں کہتا ہوں ایسے لوگ جو نہ حضرت صاحب کے پاس آئے اور نہ آپ کی صحبت میں رہے وہ اگر ۱۸۸۶ء میں (اگر اس وقت حضرت صاحب بیعت لیتے ) بیعت کر لیتے تو پھر کیا تھا۔۳۱۳ میں سے اتنی ۸ فیصدی ایسے ہیں جو میری بیعت میں داخل ہیں پھر ان کا عقیدہ کیوں ان سے وزن دار نہیں ہے۔ہم حضرت صاحب کو نبی کہتے ہیں اور علی الاعلان کہتے ہیں۔مسلم میں آیا ہے کہ ہر نبی کے لئے ایک ایسی دعا ہوتی ہے وہ جس طرح کی جاتی ہے اُسی طرح قبول ہو جاتی ہے ا مجد دوں اور محمد نوں کے لئے یہ ہرگز نہیں آیا۔حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول نے مجھے ایک دفعہ کہا جاؤ جا کر حضرت صاحب سے پوچھو کہ آپ نے وہ دعا کی ہے یا نہیں۔میں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ نہیں کی۔پھر مولوی صاحب نے کہا کہ اب جا کر پوچھو کسی کے متعلق وہ دعا کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔آپ نے فرمایا کہ دُنیا میں رسول اللہ نے بھی وہ دعا نہیں کی تھی سے میں بھی نہیں کروں گا بلکہ قیامت میں کروں گا۔اگر حضرت صاحب نبی نہیں تھے تو میرے پوچھنے پر آپ مجھے ڈانٹتے کہ میں نبی نہیں ہوں پھر تم مجھ سے یہ سوال کیوں کرتے ہو لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ ایسا جواب دیا جو آپ کی نبوت کی تصدیق کرتا ہے۔بخاری کتاب التوحيد باب في المشيئة والارادة