خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 291

خطبات محمود جلد (5) ۲۹۱ نہ کہ منسوخ شدہ کو۔پس یہ کہہ دینا نادانی اور جہالت ہے کہ منسوخ کرنے سے تو اندھیر پڑ جائے گا یا حضرت صاحب کی ہتک ہوگی۔ہم تو خدا تعالیٰ کے کلام میں بھی ناسخ و منسوخ دیکھتے ہیں۔قرآن کریم بتاتا ہے کہ قبلہ کا حکم منسوخ ہوا تھا اور یہ تحویل قبلہ صاف بتا رہی ہے کہ پہلے کوئی اور حکم تھا پھر اور ہوا۔چنانچہ قرآن کریم بھی کہتا ہے کہ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِى كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ ينْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ ا ہم نے قبلہ کو اس لئے بدلا ہے تا کہ جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون ایڑیوں کے بل پھر جاتا ہے۔اب کیا جو لوگ تحویل قبلہ مانتے ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔میں پھر یہ بتادینا ضروری سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کی کوئی آیت اس لئے منسوخ نہیں ہے کہ کوئی آیت کسی آیت کے ناسخ ہونے کے متعلق نہیں ہے۔اگر قرآن کریم میں کہیں یہ آجا تا کہ فلاں آیت منسوخ ہے تو ہم اس کو بھی مان لیتے لیکن اب جبکہ قرآن کریم میں ایسی کوئی آیت نہیں آئی تو اور کوئی کسی آیت کو منسوخ نہیں کر سکتا۔کیونکہ اگر ہر ایک اپنی مرضی کے مطابق منسوخ کرنے لگے تو سارا قرآن ہی منسوخ ہو جائے۔کوئی کسی آیت کو منسوخ سمجھ لے اور کوئی کسی کو۔اسلئے کسی کا حق نہیں ہے کہ قرآن کی کسی آیت کو منسوخ قرار دے۔تو یہ بھی ایک غلط خیال ہے۔اس کی وجہ سے بھی ہم سچی گواہی کو نہیں چھپا سکتے اور نہ اس لئے کہ لوگ ہمیں کیا کہیں گے۔لوگ ہمارے مسیح موعود کہنے سے ہم پر کہاں خوش ہیں۔تو کیا یہ کہنا بھی چھوڑ دینا چاہیئے کہ اس طرح ان کو مسیح ابن مریم کا دھوکہ لگتا ہے۔پھر لوگوں کا خیال ہے کہ مہدی خونی آئے گا اس لئے حضرت صاحب کو مہدی بھی نہیں کہنا چاہئیے کیونکہ اس طرح لوگوں کا خیال خونی مہدی کی طرف چلا جاتا ہے۔ہرگز نہیں۔کہنے والا تو آپ کو یہی کہے گا کہ آپ مسیح موعود ہیں، آپ مہدی ہیں کیونکہ واقعہ میں یہی بات درست ہے۔اس سے چاہے کسی کو دھو کہ لگے یا تکلیف ہو یہ کہنے سے کبھی نہیں رکے گا۔اسی طرح ہم بھی نبی کا لفظ آپ کے متعلق بولنا اس لئے نہیں چھوڑ سکتے کہ واقعہ میں آپ نبی تھے۔اگر آپ واقعہ میں نبی نہ ہوتے بلکہ یونہی آپ کو نبی کہا جاتا تو ہم آپ کو نبی کہنا چھوڑ دیتے۔پھر اب تو ہم نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ نبی کا لفظ نہ استعمال کرنے کی وجہ سے بعض لوگوں کو آپ کے متعلق دھو کہ لگ گیا ہے اس لئے بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔ہاں ساتھ ہی تشریح بھی کر دیتے ہیں تا کہ لوگوں کے غلط خیال کی اصلاح ہو جائے۔ہم لوگوں کے ڈر سے یہ کہنے سے نہیں رک سکتے۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ اگر کوئی میری گردن پر تلوار رکھ دے اور رسول کریم کی کوئی حدیث رہ گئی ہوگی تو میں جلدی جلدی اسے بیان کر دوں گا کہ میرے سینہ میں ہی نہ رہ جائے ہے۔تو کامل ایمان اسی کو کہتے ہیں۔ہم تو خدا تعالیٰ سے ایسے ہی ایمان کی توفیق چاہتے ہیں باقی جو بزدل ہیں وہ چھپاتے البقرة : ۱۴۴ سے یہ حضرت ابوذر کا قول ہے ( بخاری کتاب العلم باب العلم قبل القول والعمل) کے