خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 283

خطبات محمود جلد (5) ہیں۔۲۸۳ اس کے متعلق وہ لکھتا ہے کہ اب تم کو ماننا پڑا ہے کہ ہم مرزا صاحب کو ایسا نبی سمجھتے ہیں اور پھر یہ بھی لکھا ہے کہ جو تعریف تم نے حضرت مرزا صاحب کی نبوت کی کی ہے۔وہ وہی تعریف ہے جو غیر مبائعین کرتے ہیں (اس کے اصل الفاظ یہ ہیں۔نبی کی تعریف کی ذیل میں آپ نے وہ تعریف بھی لکھ دی ہے جو متفقہ مبائعین وغیر مبائعین اصحاب کی مراد ہے) حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔اس مضمون میں کوئی ایسی بات نہیں لکھی گئی ہے جس کے متعلق کہا جا سکے کہ ہم نے اب تسلیم کی ہے اور پہلے اسے تسلیم نہ کرتے تھے کیونکہ سب سے پہلے رسالہ کی صورت میں ”القول الفصل میں یہی مضمون چھپا ہے پھر ” حقیقت النبوة کی تمہید اس مضمون پر ہے کہ ہم جو حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی کہتے ہیں تو اس لحاظ سے کہ حقیقتا آپ کو نبوت ملی تھی نہ اس لئے کہ آپ بلا واسطہ یا شرعی نبی تھے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے جب یہ لکھا تھا کہ ”میاں صاحب فی الواقع حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی مانتے ہیں اس کا جواب میں نے ”القول الفصل میں لکھ دیا تھا کہ " حضرت مسیح موعود نے حقیقی نبی کے خود یہ معنی فرمائے ہیں کہ جونئی شریعت لائے۔پس ان معنوں کے لحاظ سے ہم ان کو ہر گز حقیقی نبی نہیں مانتے۔“ (القول الفصل ص ۱۲) اسی بات پر حقیقۃ النبوة کی تمہید ہے۔پھر اس وقت تک بیبیوں مضامین الفضل میں اس پر لکھے جاچکے ہیں۔مگر وہ خط لکھنے والا لکھتا ہے کہ آج تم نے اس بات کو مانا ہے اور پہلے نہیں مانتے تھے۔حالانکہ ہم پہلے بھی وہی مانتے تھے جواب مانتے ہیں۔پھر یہ بھی بالکل غلط ہے کہ حضرت مسیح موعود کو نبی کہنے سے جو ہماری مراد ہے وہی غیر مبائعین کی ہے۔غیر مبائعین ہمارے بالکل خلاف کہتے ہیں۔وہ حضرت مسیح موعود کو ہماری طرح ظلی ، بروزی، امتی اور مجازی نبی تو کہتے ہیں لیکن اس سے ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گویا حضرت صاحب نبی نہیں ہیں۔اور ہم جو یہ الفاظ کہتے ہیں تو ہمارا یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپ نبی ہیں اور حقیقی نبی ہیں مگر کوئی شریعت نہیں لائے اور نہ بلا واسطہ نبی ہوئے ہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے آپ پابند تھے اور آنحضرت کے واسطہ سے ہی آپ نبی ہوئے۔اگر غیر مبائعین کا بھی یہی مطلب ہے تو پھر وہ ہمارے مقابلہ میں کتابیں اور رسالے کیوں لکھتے ہیں۔میں نے ”القول الفصل میں لکھ دیا تھا کہ د مستقل نبی کے معنی خود حضرت مسیح موعود نے یہ کئے ہیں کہ جس کو بلا واسطہ نبوت عطا ہو اور جو کسی اور نبی کی اتباع سے انعام نبوت نہ حاصل کرے۔ان معنوں کے لحاظ سے ہم حضرت مسیح موعود کو ہرگز مستقل نبی نہیں مانتے۔“ اس کے رد میں انہوں نے لکھا۔پھر حقیقۃ النبوة میں اسی بات کو کھول کھول کر لکھا گیا تھا۔اس کے خلاف بھی انہوں نے ایک کتاب لکھی۔اگر ان کا اور ہمارا مفہوم ایک ہی تھا تو پھر ان کا مخالفت میں کتا ہیں