خطبات محمود (جلد 5) — Page 284
خطبات محمود جلد (5) لکھنے کا کیا باعث تھا۔۲۸۴ ہم جب حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی کہتے ہیں تو اس کی تشریح بھی ساتھ ہی کر دیتے ہیں کہ اگر کوئی حقیقی نبی کے یہ معنے کرے کہ وہ بناوٹی یا نقلی نہ ہو بلکہ در حقیقت خدا کی طرف سے خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کے بتائے ہوئے معنوں کے رُو سے نبی ہو اور نبی کہلانے کا مستحق ہو۔تمام کمالات مبقت اس میں اس حد تک پائے جاتے ہوں جس حد تک نبیوں میں پائے جانے ضروری ہیں تو ان معنوں کی رُو سے حضرت مسیح موعود حقیقی نبی تھے۔گوان معنوں کی رُو سے کہ آپ کوئی نئی شریعت لائے حقیقی نبی نہ تھے۔ہاں ہم بھی آپ کو ظلی نبی کہتے ہیں وہ بھی ظلی نبی کہتے ہیں۔ہم بھی امتی نبی کہتے ہیں وہ بھی امتی نبی کہتے ہیں۔ہم بھی بروزی نبی کہتے ہیں وہ بھی بروزی نبی کہتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے کہ لفظ ایک ہی ہیں پھر وہ ہمارا ر ڈ لکھتے ہیں اور ہم ان کا۔اس خط لکھنے والے نے شاید یہ سمجھا ہے کہ الفاظ کی تعین میں اختلاف ہے جواب دُور ہو گیا حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ الفاظ کی تشریح میں فرق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ظلی نبی نبی نہیں ہوتا اور ہم کہتے ہیں کہ نبی ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ نبی وہ ہوتا ہے جو بلا واسطہ نبوت پائے اور صاحب شریعت ہو۔ہم کہتے ہیں وہ بھی نبی ہوتا ہے جو بالواسطہ نبوت پائے اور جو صاحب شریعت نہ ہو۔وہ کہتے ہیں حضرت صاحب کا یونہی نبی نام رکھ دیا گیا ہے ورنہ حقیقت میں آپ نبی نہیں تھے کیونکہ آپ کوظلی نبی کہا گیا ہے اور کل سایہ کو کہتے ہیں اور سایہ کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ان میں سے بعض تو کہتے ہیں کہ سایہ پر جوتیاں مارنے سے بھی کوئی حرج نہیں ہوتا کیونکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔لیکن ہمارے نزدیک ظلی نبی کی یہ شان ہے کہ وہ کئی پہلے نبیوں سے بھی بڑھ کر ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ میں پہلے مسیح سے افضل ہوں اور وہ دعوی یہ ہے:۔” خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“ ( ریویو جلد نمبر ۶ ص ۲۵۷) اور پہلے آئمہ نے بھی اسی بات پر اتفاق کیا ہے کہ آنے والا مسیح بعض انبیاء سے بڑھ کر ہوگا۔واقعہ میں یہی بات درست ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظلت کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ایک ظل سایہ ہوتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود پر یہ معنی چسپاں نہیں ہو سکتے۔آج ایک صاحب حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرتے ہیں مگر آج سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے خواجہ صاحب کی حلف کے جواب میں ایک مضمون لکھ کر مجھے بھیجا تھا جس میں لکھا تھا کہ خواجہ کہتا ہے کہ ظل کچھ نہیں ہوتا اور اس کی کچھ حقیقت نہیں ہوتی کیونکہ ظل سایہ کو کہتے ہیں اور سایہ بے حقیقت چیز ہوتا ہے۔اگر چہ عام طور پر ظل سایہ کو کہتے ہیں مگر دراصل نور کے درمیان حائل ہونے والی روک سے جو اندھیرا پیدا ہو