خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 271

خطبات محمود جلد (5) ۲۷۱ ہو تو بھی وہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کو بالائے طاق رکھنے کے لئے کوئی نہ کوئی عذر گھڑ ہی لیں گے۔ان کے لئے کفر کا فتویٰ لگانا کوئی مشکل بات نہیں بلکہ بہت معمولی ہے۔بادشاہ سے غداری کرنے کے لئے کئی بہانے بنا سکتے تھے۔اگر اس نے آمین اونچی کہی یا ناف کے نیچے ہاتھ باندھے تو بڑی آسانی سے اس پر یہ فتویٰ لگ جائے گا کہ یہ منکم میں رہا ہی نہیں۔ہندوستان میں ایک مولوی صاحب ہیں وہ اس طرح فتویٰ دیا کرتے ہیں کہ فلاں نے فلاں بات ایسی کی ہے جو حدیث کے خلاف ہے اور جب حدیث کے خلاف ہے تو قرآن کے خلاف ہوئی اور جب قرآن کے خلاف ہوئی تو خدا تعالیٰ کے خلاف ہوئی اس لئے یہ شخص کا فر ہوا۔اور جب کا فر ہوا تو اس کی بیوی بیوی نہ رہی مومن اور کافر کا نکاح نہیں رہ سکتا۔اس لئے نکاح فسخ ہو گیا۔اور جب نکاح فسخ ہو گیا۔تو جو اس کی اولاد ہوئی۔وہ ولد الزنا ہوئی۔ایسے مولویوں کے ہوتے ہوئے کوئی بھی بادشاہ ہو اس پر کفر کا فتویٰ لگانا کونسا مشکل ہے اور جب اس پر کفر کا فتویٰ لگ گیا۔تو وہ منکم میں سے ہی نہ رہا۔اور جب مِنكُم میں سے نہ رہا تو اس کی اطاعت بھی جائز نہ رہی۔در اصل یہ ایک گند ہے اور غداری کا اصل باعث یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایمان نہیں رہا۔ایسے ہی یہ لوگ فتوی دیتے ہیں کہ عیسائی ہم میں سے نہیں ہیں اس لئے ان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے معاہدے کئے اور بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کرنے کے باوجودان کو پورا کیا۔اگر کفار سے عہد کر کے پورا کرنا جائز نہیں۔اگر کفار سے بدعہدی اور عہد شکنی کرنا روا ہے تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں ایفائے عہد کئے۔اور کیوں نہ آپ نے ان عہدوں کو کالعدم قرار دے دیا۔لیکن یہ غلط ہے اور بالکل غلط ہے کہ کفار سے بد عہدی کرنا جائز ہے۔اسے جائز قرار دینے والوں کی طرف سے سب سے بڑی دلیل جو پیش کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت میں جو میں نے پڑھی ہے لفظ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ آیا ہے۔پھر مِنكُمْ کے سوا اور کسی کی اطاعت کس طرح جائز ہو سکتی ہے۔ہم کہتے ہیں صرف یہی آیت اس بات کے لئے بطور دلیل کے پیش نہیں کی جاتی کہ مسلمانوں کو کسی غیر قوم کی فرمانبرداری کرنی چاہئیے بلکہ اور بھی دلائل ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ