خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 256

خطبات محمود جلد (5) ۲۵۶ یہی وہ حکم ہے جس نے لوگوں کو آپ کے خدا بنانے سے روکا۔ورنہ آپ حضرت کرشن حضرت مسیح وغیرہ سے زیادہ اس بات کے حقدار تھے کہ آپ کو خدا سمجھا جاتا۔بائیبل کی پیشگوئیوں میں بھی آپ کی شان اور مرتبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو خدا ہی کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔اور حضرت مسیح کو بیٹے کی حیثیت سے۔چنانچہ بائیبل میں ایک تمثیل کے طور پر حضرت مسیح اپنے آپ کو بیٹے کی نسبت دیتے ہیں اور رسول کریم کے آنے کو خود خدا تعالیٰ کا آنا کہتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح کہتے ہیں۔ایک اور تمثیل سُنو۔ایک گھر کا مالک تھا۔جس نے انگوری باغ لگا یا اور اس کے چاروں طرف احاطہ گھیرا۔اور اس میں حوض کھو دا۔اور بُرج بنایا۔اور اسے باغبانوں کو ٹھیکے پر دے کر پردیس چلا گیا۔اور جب پھل کا موسم قریب آیا تو اس نے اپنے نوکروں کو باغبانوں کے پاس اپنا پھل لینے کو بھیجا اور باغبانوں نے اس کے نوکروں کو پکڑ کر کسی کو پیٹا اور کسی کو قتل کیا۔اور کسی کو سنگسار کیا پھر اس نے اور نوکروں کو بھیجا۔جو پہلوں سے زیادہ تھے۔اور انہوں نے ان کے ساتھ بھی اسی طرح کیا۔آخر اس نے اپنے بیٹے کو ان کے پاس یہ کہہ کر بھیجا کہ وہ میرے بیٹے کا تو لحاظ کریں گے۔جب باغبانوں نے بیٹے کو دیکھا تو آپس میں کہا کہ یہی وارث ہے آؤ اسے قتل کر کے اسکی میراث پر قبضہ کر لیں۔اور اسے پکڑ کر باغ سے باہر نکالا۔اور قتل کر دیا۔پس جب اس باغ کا مالک آئے گا تو ان باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا۔انہوں نے اس سے کہا۔ان برے آدمیوں کو بری ،، طرح ہلاک کرے گا اور باغ کا ٹھیکہ اور باغبانوں کو دے گا۔جو موسم پر اس کو پھل دیں۔اس عبارت میں حضرت مسیح نے اپنے آنے کو بیٹے کا آنا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کو خود ما لک باغ کا آنا قرار دیا ہے۔واقعہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شان ایسی تھی کہ اگر خدا تعالیٰ دنیا میں انسان کے بھیس میں آتا۔تو آپ ہی کے وجود میں آتا۔اور آپ ہی کی شان کو دیکھ کر لوگوں کو اس بات کا دھو کہ لگ جاتا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس سے لوگوں کو بچانے کے لئے اور اس خرابی کو دور کرنے کے لئے اپنی وحدانیت کے اقرار کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبودیت بھی لگا دی۔امتی باب ۲۱