خطبات محمود (جلد 5) — Page 255
خطبات محمود جلد (5) ۲۵۵ انسان طاقتوں سے کام لیتا ہے تو اوپر بھی اتنا چڑھتا ہے کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔جس طرح دور سے ستارے بہت چھوٹے اور چمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ان پر غور کرنے والا حیران ہو جاتا ہے کہ کتنی بڑی فضا ہے اور اس میں کس قدر ستارے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی کیسی کیسی عجیب مخلوق ہے۔اسی طرح انسان کی ترقی اور تنزیل کا حال ہے۔جس طرح اس فضا کی حد بندی نہیں ہو سکتی۔اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چار یا دس یا سو یا ہزار ارب میل پر یہ ختم ہو جاتی ہے۔اسی طرح یہ بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ فلاں مقام پر جا کر انسان کی ترقی بند ہو جاتی ہے۔پھر جس طرح کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ زمین کے نیچے فلاں حد سے آگے کوئی مخلوق نہیں اسی طرح انسان کے گرنے کے متعلق بھی کوئی حد بندی نہیں کر سکتا۔انسان ترقی کرتے کرتے ایسا ایمان حاصل کر سکتا ہے اور اس میں اتنی خوبیاں جمع ہو سکتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اس طرح اپنے اندر لے لیتا ہے کہ دیکھنے والے کو یہ دھو کہ لگ جاتا ہے کہ یہی خدا ہے۔چنانچہ جن برگزیدہ انسانوں نے اپنے قلوب کو بہت ہی صاف کر لیا۔اور ایمان کے اعلیٰ درجہ کو پہنچ گئے ان کی نسبت لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ یہی خدا ہیں یا ان میں خدا ہے۔حضرت کرشن حضرت را مچندر۔حضرت مسیح۔حضرت عزیر کو لوگوں نے خدا بنالیا۔اور سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر پہنچے تھے کہ آپ کو لوگ خدا سمجھتے۔مگر آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی توحید کا ایسا جوش تھا اور شرک کے نام تک سے ایسی نفرت تھی کہ آپ نے اس کے مٹانے کے لئے لَا إِلَهَ إِلَّا الله کے ساتھ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُۂ لگا دیا۔نادان اور نا سمجھ انسان اعتراض کرتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے خدا کے ساتھ اپنے نام کو لگا کر اپنے آپ کو خدا کا شریک قرار دے لیا ہے۔مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ آپ نے اپنے تئیں خدا تعالیٰ سے علیحدہ کرنے کے لئے کیا ہے نہ کہ خدا تعالیٰ سے ملانے کے لئے۔پورا حکم تو یہی ہے اَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُه - کہ جس طرح ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے اسی طرح ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم با وجود اس قدر کمالات رکھنے کے اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہی تھے۔کیا یہ شرک ہے۔نہیں۔بلکہ یہ تو شرک کے مٹانے کا ذریعہ ہے۔