خطبات محمود (جلد 5) — Page 219
خطبات محمود جلد (5) ۲۱۹ عادت ہو جائے گی تو زیادہ سے زیادہ اُٹھاتا جائے اور اس طرح کرتے کرتے بڑے سے بڑا بوجھ بھی اٹھا لے گا۔ہاں اسے چاہئے کہ ہمت نہ ہارے اور مایوس نہ ہو۔ہمارے راستہ میں جو مشکلات حائل ہیں۔ان کا انکار کوئی نادان ہی کرے تو کرے۔ورنہ عقل مند کبھی نہیں کر سکتا۔ہم نے تمام دنیا سے مقابلہ کی ٹھانی ہوئی ہے لیکن نہ ہمارے پاس مال ہے نہ دولت ہے نہ دنیا وی عزت ہے۔نہ حکومت ہے۔اس صورت میں اگر ہم وہ حقیقی ہتھیار جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں ملا ہے اس سے بھی کام نہ لیں۔تو اور کیا صورت ہوگی جس سے ہم کامیاب ہونگے۔ایک جنگل اور بیابان میں بیٹھا ہوا انسان غافل نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس میں شیر۔چیتے اور ڈاکو رہتے ہیں۔لیکن وہاں تو ایک آدھ شیر چیتے کا ڈر ہوتا ہے یہاں کروڑوں کروڑ شیر اس بات کے لئے تیار ہیں کہ ہمیں چیر پھاڑ کر پھینک دیں۔اگر کہیں ایک شیر ہو۔بلکہ شیر نہ بھی ہو صرف وہم ہی ہو۔یا ایک ڈاکوؤں کی جماعت ہو۔جماعت نہ بھی ہو صرف خیال ہی ہو۔تو بھی لوگ ہوشیار اور چوکس رہتے ہیں۔لیکن ہمارے لئے ایک شیر نہیں بلکہ کروڑوں شیر ہیں۔ایک ڈاکوؤں کی جماعت نہیں بلکہ بے شمار ڈاکو ہیں۔اس لئے ہمیں ہوشیار رہنے کی بہت ہی ضرورت اور حاجت ہے۔اس لئے ہمیں جس رنگ اور جس طریق سے توفیق ملے اسی سے کوشش اور ہمت کرنی چاہئیے۔پھر جبکہ ہم خدا تعالیٰ کے قرب اور اس کے فضل کے محتاج ہیں اور اس کے حصول کے ذرائع اور طریق بھی معلوم ہیں پھر غفلت کیسی۔اگر کسی میں غفلت ہے تو اس کے پہلے گناہوں کے زنگ کی وجہ سے ہے جسے بہت جلد دور کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے اگر دل کے ایک حصہ میں لگ چکا ہے۔تو دوسرے حصہ کے ذریعے اُسے کھرچنے کی کوشش کرو۔ایک ہاتھ بندھا ہو تو دوسرے سے کھولنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ایک پاؤں گڑا ہوا ہو تو دوسرے سے نکالنے کی ہمت کی جاتی ہے۔تم بھی اسی طرح کرو۔اگر قلب پر زنگ ہے تو زبان سے ہٹانے کی کوشش کرو۔اگر زبان پر ہے تو ہاتھ سے ہٹانے کی کوشش کرو۔اور اگر ہاتھوں پر ہے تو پاؤں سے۔اس طرح تمہیں ایک چھوٹا عمل بڑے کی توفیق دے گا۔اور وہ اس سے بھی بڑے کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ - (الرعد : ۱۲)