خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 214

خطبات محمود جلد (5) ۲۱۴ اللہ تعالیٰ بڑا رحمان ہے پھر وہ بڑا رحیم ہے۔اس کی رحمانیت اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ انسان اس کی رحیمیت کا بھی مزا چکھے۔یورپ کے لوگ انسانی فطرت پر بہت غور کرتے ہیں اور اپنے کاموں کو عجیب عجیب طریقوں سے ترقی دیتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے خدا تعالیٰ کی سنتوں پر انہوں نے خوب غور کیا ہے لیکن افسوس کہ مسلمان اس طرف سے بالکل غافل ہو گئے۔یورپ کے تاجر جب اپنے کام کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا مال اچھا ہے ہم کوئی دھوکہ نہیں دیتے۔اور نہ ہی غلط کہتے ہیں تو وہ نمونہ مفت دینے کا اعلان کرتے ہیں کیونکہ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو غلط اور جھوٹ اشتہار دے کر لوگوں کو بدظن کر دیتے ہیں۔اس لئے وہ لوگ جنھیں اپنے مال کے عمدہ ہونے اور مفید ہونے کا یقین ہوتا ہے سینپل (نمونہ ) شائع کرتے ہیں اشتہار دیتے ہیں اور اس میں لکھتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارا مال قیمتا منگوا ؤ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ایک پیسہ کا پوسٹ کارڈ بھیج کر ہم سے اس کا نمونہ طلب کرو۔تمہارا خط آنے پر ہم تمھیں مفت نمونہ بھیج دیں گے۔تم اس کو استعمال کرنا۔اگر مفید ثابت ہو تو اور قیمتا منگوا لینا۔ورنہ نہ منگوا نا۔اس طرح کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو چونکہ صرف ایک پیسہ کا کارڈ لکھنا پڑتا ہے اور باقی سب خرچ یعنی دوائی کی قیمت شیشی کا مول محصول ڈاک۔خط و کتابت کا خرچ مال والوں کو ہی کرنا پڑتا ہے۔اس لئے بہت سے لوگ نمونہ منگوا کر استعمال کرتے ہیں اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ اس تھوڑی سی دوائی سے ہمیں اس قدر فائدہ ہوا ہے۔اگر زیادہ کھائیں گے تو ضرور ہے کہ زیادہ فائدہ ہو اس لئے وہ قیمتا منگوا لیتے ہیں اس طرح کا رخانہ والوں کی شہرت بھی ہو جاتی ہے اور فائدہ بھی۔خدا تعالیٰ نے بھی اپنے انعام و اکرام دینے کے نمونے مقرر کئے ہوئے ہیں۔انسان کو دعا۔عبادت اور نیک اعمال کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اپنی رحمانیت کی صفت ظاہر کرتا ہے جو کہ بغیر عمل کے بغیر کوشش کے اور بغیر محنت اور تدبیر کے جاری ہوتی ہے۔یعنی بلا کام کئے خدا کا فضل نازل ہوتا ہے۔اور وہ نمونہ کے طور پر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے رحمانیت کو رحیمیت سے پہلے رکھا ہے۔چنانچہ فرمایا۔بسم الله الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم۔پہلے رحمانیت کو بیان کر کے