خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 209

۲۰۹ خطبات محمود جلد (5) اس کے کلام میں بعض باتیں عجیب بھی پائی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دل میں سعادت بھی تھی۔کیونکہ کہیں کہیں اس کے شعروں سے پتہ لگتا ہے کہ وہ اپنا معشوق خدا تعالیٰ کو قرار دیتا ہے۔ہمیں اس پر بدظنی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت اور الفت ہو۔وہ ایک شعر میں کہتا ہے۔ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو کہ میں خدا کو بے مہر۔بے مہر کہتا ہوں تو پھر وہ مجھ پر مہربانی کیوں کرے۔تو جو بندہ خدا تعالیٰ کی حمد نہیں کرتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ خدا نے مجھے کیا دیا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس پر جو انعام کیا ہوتا ہے وہ بھی چھین لیتا ہے جب انعام چھن جاتا ہے تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ مجھ پر فلاں انعام تھا۔فلاں تھا۔تو اللہ تعالیٰ کے مزید انعام حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی حمد جاری رکھی جائے اور جو نعمتیں اس کی طرف سے ملی ہیں ان کے شکریہ میں بے اختیار الحمد للہ رب العالمین نکلے۔میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے یہ حکومت برطانیہ بھی ایک نعمت ہے بعض نادان اور کم عقل ہیں جو اس کے ماتحت رہتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں فلاں حقوق نہیں دیئے گئے۔ہمیں فلاں اختیارات نہیں سپر د کئے گئے۔یہ نہیں دیا۔وہ نہیں دیا۔لیکن انہیں پتہ تب لگے۔جب کہیں باہر جا کر دیکھیں۔یہاں تو وہ کہہ لیتے ہیں کہ ہمیں فلاں حقوق نہیں دیئے گئے۔ہماری فلاں بات نہیں مانی گئی۔مگر کسی اور جگہ اتنا کہنے کی بھی اجازت نہیں پائیں گے اور یہ کہنے پر پکڑ کر قید کر دیئے جائیں گے۔یہاں تو جلسے ہوتے اور بعض اوقات گورنمنٹ کے خلاف بھی تقریریں کرتے ہیں اور بعض اخباروں میں سخت سخت الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں لیکن گورنمنٹ بہت کچھ برداشت کر جاتی ہے اور جب تک فتنہ وفساد کا ڈر نہ ہو د خل نہیں دیتی۔ایسے وقت میں اس کے لئے دخل دینا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ اگر اس وقت بھی دخل نہ دے تو گویا اس میں حکومت کرنے کا مادہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔تو یہ حکومت بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اس لئے اس کی قدر کرنی چاہئیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ سورہ والناس اس گورنمنٹ کے لئے بطور پیشگوئی کے ہے۔پھر آپ نے -