خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 210

خطبات محمود جلد (5) اس کے متعلق یہ دعا کی ہے کہ ؎ ۲۱۰ تاج و تخت بند قیصر کو مبارک ہو مدام ان کی شاہی میں میں یاتا ہوں رفاہ روزگار اس میں کسی خاص بادشاہ کا نام لے کر دعا نہیں کی گئی۔کیونکہ بادشاہ تو بدلتے رہتے ہیں اس لئے آپ نے سلطنت کے لئے دعا کی ہے۔انبیاء کا دل بڑا شکر گزار ہوتا ہے۔ایک معمولی سے معمولی بات پر بھی بڑا احسان محسوس کرتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں جب دن رات چھپتیں تو باوجود اس کے کہ آپ کئی کئی راتیں بالکل نہیں سوتے تھے۔لیکن جب کوئی شخص رات کے وقت پروف لاتا تو اس کے آواز دینے پر خود اُٹھ کر لینے کے لئے جاتے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے کہ جزاک اللہ احسن الجزاء۔اس کو کتنی تکلیف ہوئی ہے۔یہ لوگ کتنی تکلیف برداشت کرتے ہیں۔خدا ان کو جزائے خیر دے۔حالانکہ آپ خود ساری رات جاگتے رہتے تھے۔میں کئی بار آپ کو کام کرتے دیکھ کر سویا اور جب کبھی آنکھ کھلی تو کام ہی کرتے دیکھا۔حتی کہ صبح ہو گئی۔دوسرے لوگ اگر چہ خدا کے لئے کام کرتے تھے لیکن آپ اُن کی تکلیف کو بہت محسوس کرتے تھے۔کیوں؟ اس لئے کہ انبیاء کے دل میں احسان کا بہت احساس ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے تمام احسانات کو اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔الحمد اللہ رب العالمین کے سوا ان کے منہ سے کچھ نکلتا ہی نہیں۔پس تم لوگ بھی خدا تعالیٰ کے انعامات کو دیکھ کر الحمد للہ رب العالمین ہی کہا کرو۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔گورنمنٹ برطانیہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہے۔تم لوگ اگر اُس کے لئے شکر کرو گے تو یہی نہیں ہو گا کہ تم خدا کے شکر گزار بندے بنو گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے اور انعامات بھی حاصل کر لو گے میرے خیال میں وہ لوگ جو گورنمنٹ کی مخالفت کرتے اور اسکے احسانات کی ناقدری کرتے ہیں وہ اگر گورنمنٹ کے شکر گزار ہوں تو ان پر خدا تعالیٰ کا فضل ہو جائے اور ان کی مشکلات بھی دور ہو جائیں۔گورنمنٹ کی آجکل مشکلات کے لئے لوگ جلسے کرتے ہیں۔لیکن ان سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔کیونکہ کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دل میں کچھ اور رکھتے ہیں اور زبان پر کچھ اور۔مگر چونکہ اظہار وفاداری کا یہ بھی ایک طریق ہے۔اگر ہماری جماعت بھی اس طرح کرے۔