خطبات محمود (جلد 5) — Page 200
خطبات محمود جلد (5) ۲۰۰ ہوتے ہیں وہ اسی طرح کیا کرتے ہیں کہ اگر ان کا منشاء ہو کہ ہمارا افسر فلاں درخواست کو نا منظور کرے تو اس کے سامنے چار پانچ ایسی درخواستیں پیش کر دیتے ہیں جن کے متعلق انہیں پورا یقین ہو کہ نامنظور کی جائیں گی جب افسران کو نا منظور کر چکتا ہے اور خاص طور پر بر افروختہ ہوتا ہے تو نامنظور کرانے والی کو پیش کر دیتے ہیں اس طرح وہ بھی نا منظور ہو جاتی ہے۔اور جب کسی درخواست کے متعلق ان کا یہ منشاء ہو کہ منظور ہو جائے۔تو پہلے ان امور کو پیش کرتے ہیں جن سے افسر خوش ہو جائے جب دیکھتے ہیں کہ خوش ہے تو اسے بھی پیش کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ منظور ہو جاتی ہے۔اس طرح کام کرنے والے اور ہوشیار کلرک کیا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بھی نکتہ نواز ہے۔افسر کبھی تو جان بوجھ کر بھی کسی نامنظور کرنے والی درخواست کو منظور کر لیتا ہے کہ اس نے چونکہ ہمیں خوش کیا ہے اس لئے ہم بھی اس کو خوش کر دیں۔لیکن کبھی وہ نادانی سے ایسا کر بیٹھتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کی شان ہی ایسی ہے کہ اس کو کبھی دھوکہ نہیں لگ سکتا۔اس لئے وہ خوش ہی ہو کر بات قبول کرتا ہے۔پس کسی خاص معاملہ کے قبول کرانے کے لئے پہلے ایسی دعائیں کرنی چاہئیں۔جن کو خدا تعالیٰ نے قبول ہی کر لینا ہو۔مثلاً یہ کہ الہی دین اسلام کی بڑے زورشور سے اشاعت ہو۔تیرا جلال اور قدرت ظاہر ہو۔تیرے انبیاء کی عزت اور تو قیر بڑھے۔خدا تعالیٰ کہے گا ایسا ہی ہو۔اس طرح دعائیں کرتے کرتے کرتے اپنا مقصد بھی پیش کر دیں کہ الہی یہ بات بھی ہو جائے۔تو دعا قبول کرانے کا ایک یہ بھی طریق ہے۔اس طرح کرنے سے تیزی اور چستی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے دعا نہایت عمدگی اور خوبی سے کی جاسکتی ہے اور دوسرے سے خدا تعالیٰ خوش ہو جاتا ہے اور جب اس کے خوش ہونے کی حالت میں دعا پیش کی جائے گی تو وہ ضرور قبول ہو جائے گی۔ایک طریق یہ ہے کہ ایسی جگہ دعا مانگی جائے جو بابرکت ہو۔کیونکہ جگہ کا بھی قبولیت دعا سے خاص تعلق ہوتا ہے۔یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ دنیا کی کسی چیز کا کوئی اثر اور کوئی حرکت ایسی نہیں ہوتی جو ضائع جاتی ہو۔بلکہ ہر ایک چیز کی خفیف سے خفیف حرکت بھی قائم اور محفوظ رہتی ہے۔پس جب کسی اچھی چیز سے انسان کا تعلق ہوتا ہے تو اس انسان کا خاص اثر اس پر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مدینہ اور مسجد اقصٰی میں نماز