خطبات محمود (جلد 5) — Page 201
خطبات محمود جلد (5) ۲۰۱ پڑھنے کا کسی اور جگہ پڑھنے سے بہت زیادہ درجہ بتایا ہے !۔کیا وہاں کے پتھر اور گارا کوئی خاص قسم کے ہیں نہیں بلکہ جگہیں برکت والی ہیں اور جو ان میں نماز پڑھتا ہے اس پر اچھا اثر ہوتا ہے۔یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ انسان سے برکت چلی جاتی ہے۔قومیں بے برکت ہو جاتی ہیں۔کیونکہ یہ اپنی نادانی اور بیوقوفی سے اس درِ بے بہا کو کھو دیتی ہیں۔مگر بے جان اشیاء میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت ڈالی جاتی ہے وہ کبھی نہیں جاسکتی اور ہمیشہ کے لئے رہتی ہے (سوائے نہایت خاص وجوہ کے یا خطر ناک بد اعمالی کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ - (الرعد : ۱۲ ) کہ جب خدا تعالیٰ کسی قوم پر احسان اور فضل کرتا ہے تو اس وقت تک اس میں تغیر نہیں کرتا اور اسے نہیں ہٹا تا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت میں تغیر نہ پیدا کرے تو انسان اپنی بداعمالیوں اور بد افعالیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے فضل کو اپنے اوپر سے بند کر لیتا ہے۔لیکن ایک بے جان چیز ایسا نہیں کر سکتی۔اس لئے اس پر ہمیشہ کے لئے فضل قائم رہتا ہے۔دیکھو مدینہ کے لوگ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ایسے ہو گئے ہیں کہ جس۔طرح وہاں کے لوگوں کی دعائیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت پوری ہوتی تھیں اس طرح آج ان کی نہیں ہوتیں۔مکہ کے رہنے والوں کی بھی یہی حالت ہے۔وہاں آج بھی دعائیں قبول ہونے کا ویسا ہی اثر ہے جیسا کہ پہلے تھا کیونکہ وہاں کی اینٹیں گا را اور زمین نہیں بگڑی بلکہ آدمی بگڑ گئے ہیں۔تو جن جگہوں پر خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہو جاتا ہے وہ پھر کبھی نہیں رکتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا خزانہ ایسا وسیع ہے کہ جس کے خالی ہونے کا کبھی خیال بھی نہیں آ سکتا جن مقامات پر خدا تعالیٰ نے فضل کر دیا ہے پھر ان سے کبھی منفصل نہیں ہوتا۔اس لئے خاص مقامات میں دعا خاص طور پر قبول ہوتی ہے۔پس انسان کو چاہئیے کہ جب دعا کرنے لگے تو ایسے ہی مقام کو چن کر کرے۔حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے پاس بھی ایک مصلی تھا۔آپ فرماتے تھے کہ میں جب کبھی اس مصلے پر بیٹھ کر دعا کرتا ہوں۔خاص طور پر قبول ہوتی ہے۔تو خاص اشیاء میں خاص برکت کی وجہ سے خاص ہی اثر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بخاری کتاب الصلوة في مسجد مكة والمدينة باب لا تشد الرجال الا الى ثلاثة مساجد۔