خطبات محمود (جلد 5) — Page 190
خطبات محمود جلد (5) ۱۹۰ ان میں سے ایک یہ تھی کہ انسان اپنے اعمال میں پاکیزگی پیدا کرے اور خدا تعالیٰ کے ہر ایک حکم کو بجالائے۔کیوں؟ اس لئے کہ جس سے انسان خوش ہوتا ہے اس کو انعام دیتا ہے اسی طرح جس پر خدا تعالیٰ خوش ہوتا ہے اسی پر انعام کرتا ہے اس طریق کو سنکر بعض لوگ کہہ دیں گے کہ یہ تو ایک بڑی بات ہے ہمیں پہلے اپنے اعمال کی درستی کے لئے ہی دعا کی ضرورت ہے کیونکہ دعا تو تب قبول ہوگی۔جبکہ اعمال درست ہوں گے اور اعمال اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک کہ خدا تعالیٰ ہماری دستگیری نہ کرے اس لئے کوئی ایسی بات بتاؤ۔جس پر عمل کرنے سے ہمارے جیسے کمزور ایمان اور کمزور اعمال والے انسانوں کی دعائیں بھی قبولیت کا شرف حاصل کر سکیں۔کیونکہ ہم کو بہ نسبت دوسروں کے بہت زیادہ ضرورت ہے تا کہ ہمارے اعمال دعا کے ذریعہ درست اور مضبوط ہوں اور ہمیں کامل ایمان حاصل کرنے کی توفیق ملے۔اس کے لئے میں آج چند ایسی باتیں بھی بیان کرتا ہوں جن کو ہر ابتدائی حالت والا انسان عمل میں لا سکتا ہے اور گو وہ معمولی نظر آتی ہیں لیکن در حقیقت بہت بڑی ہیں اور ان سے بڑے بڑے نتائج پیدا ہوتے ہیں ان میں سے ایک بات تو وہ ہے جو گزشتہ خطبہ میں میں نے بتائی تھی کہ انسان دعا کرتے ہوئے اس بات پر کامل ایمان رکھے کہ میں خدا کے حضور سے کبھی نا امید نہیں ہوں گا۔اور کبھی تہیدست نہیں پھروں گا۔لیکن اگر کوئی انسان دعا تو کرتا ہے مگر اس کا دل کہتا ہے کہ تیری دعا قبول نہیں ہوگی تو واقعہ میں اس کی دعا قبول نہیں ہوگی۔اس لئے ہر ایک انسان اس یقین سے دعا مانگے کہ خدا تعالیٰ ضرور سنے گا اور قبول کرے گا۔دوسری بات یہ ہے کہ ہم انسانوں میں دیکھتے ہیں کہ ان کے جو پیارے ہوتے ہیں ان سے جو نیک سلوک کرتا ہے وہ بھی ان کی نظروں میں پیارا معلوم دینے لگ جاتا ہے۔مثلاً اگر کوئی ایک بچہ کو ہلاکت سے بچائے تو اس بچہ کے ماں باپ اس کے شکر گزار ہوں گے اور اسے یہ نہیں کہیں گے کہ تو نے بچہ کو بچایا ہے نہ کہ ہم کو۔کہ ہم تیرے مشکور ہوں۔تو یہ محبت کا تقاضا ہے کہ جو چیز کسی کی محبوب ہوتی ہے تو جب اس کو کوئی فائدہ پہنچائے یا اسکی نسبت کوئی اچھی بات کہے تو محب کے دل میں اس کی بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔یہی گر دُعا میں بھی انسان استعمال کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو اس سے بہت زیادہ محبت انسانوں سے ہوتی ہے۔۔