خطبات محمود (جلد 5) — Page 189
خطبات محمود جلد (5) ۱۸۹ بتانا مناسب نہ تھا۔اب میں بتاتی ہوں۔اور وہ یہ کہ بہت سی بیماریاں انسان کو نیم پختہ کھانا کھانے کی وجہ سے لاحق ہو جاتی ہیں۔میں نے جلے ہوئے ٹکڑے لانے کے لئے اس لئے کہا کہ تم ان ٹکڑوں کے لئے روٹی کو ایسا پکاؤ کہ وہ کسی قدر جل بھی جائے گی۔جلی ہوئی کو رکھ دو گے اور باقی کھا لو گے۔اس سے تمہاری صحت بہت اچھی رہے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یہ کیا چھوٹی سی بات تھی لیکن در حقیقت اس کے بچہ کو بچانے کا موجب ہوگئی۔سپاہی چونکہ جلدی جلدی کھانا پکا کر کھا لیتے ہیں اور اسطرح اکثر کچا رہتا ہے اس لئے انہیں پیچش اور محرقہ وغیرہ امراض اکثر لاحق رہتی ہیں۔اس کی ماں نے ایسی بات بتائی جو بظاہر تو بہت معمولی تھی مگر جب اس نے اس پر عمل کیا تو بہت بڑا فائدہ اٹھایا۔یعنی اس سے اس کی صحت سلامت رہی۔یہ میں نے تمہید کیوں بیان کی ہے اس لئے کہ جو کچھ میں نے پچھلے جمعہ کو بیان کیا تھا۔اور جو آج کرنے لگا ہوں وہ بظاہر سننے میں بہت معمولی معلوم ہوا ہوگا۔اگر وہ ایسا ہی معمولی ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ خوبصورت لکھنے والے۔عمدہ اشیاء بنانے والے۔اعلیٰ کھانا پکانے والے کے ہاتھ کی حرکت ہے۔عام لوگ سمجھتے ہیں کہ جن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔وہ کوئی خاص گر جانتے ہیں۔حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کے پاس بھی وہی گر ہوتا ہے مگر وہ استعمال نہیں کرتے۔اس لئے ان کی دعائیں رڈ کی جاتی ہیں اور جو استعمال کرتے ہیں ان کی قبول ہوتی ہیں۔پس تم لوگ ان کو معمولی نہ سمجھو وہ گو معمولی نظر آتی ہیں مگر نتائج اعلیٰ رکھتی ہیں۔جب تم ان باتوں کوسُنو گے جو اب میں سنانا چاہتا ہوں تو کہو گے کہ یہ معمولی باتیں ہیں۔ان کو ہم بھی جانتے ہیں مگر جاننا اور بات ہے اور عمل کرنا اور بات۔غیر احمدی کہا کرتے ہیں کہ مرزا صاحب مسیح موعود ہو کر کیا آئے جس دن سے آئے ہیں اسی دن سے لوگوں پر ہلاکت اور تبا ہی آرہی ہے۔ہم کہتے ہیں ان کا آنا ہلاکت اور تباہی سے نہیں بچا سکتا۔بلکہ ان کا ماننا بچاتا ہے۔پس ہمیں یہ بتایا جائے کہ کتنوں نے آپ کو مانا ہے۔جب آپ کو مانتے نہیں تو پھر تباہیوں سے کس طرح بچیں تو کسی بات کا جاننا یا زبانی ماننا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں دیتا جب تک کہ اس پر عمل نہ کیا جائے۔گذشتہ جمعہ میں میں نے دعا کے قبول ہونے کے لئے دو باتیں بتائی تھیں