خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 188

خطبات محمود جلد (5) ۱۸۸ بند ہو جاتی ہے۔اگر اس اچھا کھانا پکانے والے سے پوچھا جائے کہ تم نے کس طرح پکایا ہے تو یہ نہیں ہوگا کہ وہ ترکیبوں اور احتیاطوں کے کوئی دو تین صفحے لکھا دے گا بلکہ یہی کہے گا کہ جس طرح سب لوگ پکاتے ہیں اسی طرح میں نے بھی پکایا ہے۔میں کوئی نئی ترکیب تو نہیں جانتا۔یا اگر زیادہ کرے گا تو یہ کہہ دے گا کہ نمک مرچ اس طرح ڈالتا ہوں۔مسالہ اس طرح بھونتا ہوں۔آگ اس قدر جلاتا ہوں وغیرہ۔ان باتوں کو شنکر پوچھنے والا سمجھے گا کہ یہ مجھ سے دھو کہ کر رہا ہے اور اصل بات نہیں بتا تا۔اس طرح تو میں پہلے ہی کرتا ہوں لیکن اصل اور درست بات وہی ہوتی ہے جو وہ بتا رہا ہوتا ہے۔یہی حال عمارت بنانے والوں کا ہے۔یہی علم پڑھانے والوں کا۔ایک مدرس کی بات بہت کم طالب علم سمجھتے ہیں۔لیکن دوسرے کی ہر ایک سمجھ جاتا ہے اس کو بیان کرنے کی ایک معمولی مشق ہوتی ہے اسے اگر وہ بیان کرے تو لوگ بہت معمولی سمجھیں۔اسی طرح اور کئی باتوں کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔لیکن یہی معمولی باتیں بہت بڑے نتائج پیدا کرنے کا موجب ہو جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے سنا۔آپ کسی عورت کا قصہ بیان فرماتے کہ اس کا ایک ہی لڑکا تھا۔وہ لڑائی پر جانے لگا تو اس نے اپنی ماں کو کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جو میں اگر واپس آؤں تو تحفہ کے طور پر آپ کے لئے لیتا آؤں اور آپ اسے دیکھ کر خوش ہو جا ئیں۔ماں نے کہا۔اگر تو سلامت آجائے تو یہی بات میرے لئے خوشی کا موجب ہو سکتی ہے لڑکے نے اصرار کیا اور کہا آپ ضرور کوئی چیز بتائیں۔ماں نے کہا۔اچھا اگر تم میرے لئے کچھ لانا ہی چاہتے ہو تو روٹی کے جلے ہوئے ٹکڑے جس قدر زیادہ لا سکولے آنا۔میں انہیں سے خوش ہو سکتی ہوں۔اس نے اس کو بہت معمولی بات سمجھ کر کہا کہ کچھ اور بتائیں لیکن ماں نے کہا۔بس یہی چیز مجھے سب سے زیادہ خوش کر سکتی ہے۔خیر وہ چلا گیا۔جب وہ روٹی پکا تا تو جان بوجھ کر اسے جلاتا۔تا جلے ہوئے ٹکڑے زیادہ جمع ہوں۔روٹی کا اچھا حصہ تو خود کھالیتا اور جلا ہوا حصہ ایک تھیلے میں ڈالتا جاتا۔کچھ مدت کے بعد جب گھر آیا۔تو اس نے جلے ہوئے ٹکڑوں کے بہت سے تھیلے اپنی ماں کے آگے رکھ دیئے۔وہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔اس نے کہا۔اماں! میں نے آپ کے کہنے پر عمل تو کیا ہے۔مگر مجھے ابھی تک معلوم نہیں ہوا کہ یہ بات کیا تھی۔ماں نے کہا اس وقت جبکہ تم گئے تھے اس کا