خطبات محمود (جلد 5) — Page 186
JAY 24 خطبات محمود جلد (5) قبولیت دعا کے طریق نمبر (فرموده ۲۸ جولائی ۱۹۱۶ء) تشہد وتعوذوسورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیت پڑھ کر فرمایا :- وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَلَى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة: ۱۸۷) بہت سی باتیں بظاہر ہلکی اور چھوٹی نظر آتی ہیں اور جن لوگوں نے ان کے فوائد سے محروم رہنا ہوتا ہے وہ ان کو بے حقیقت اور معمولی سمجھ کر ان پر سے اندھوں کی طرح گذر جاتے ہیں۔لیکن ان پر عمل کرنے سے بہت بڑے اور اعلیٰ درجہ کے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔دیکھو سارے پڑھے لکھے آدمی خط لکھتے ہیں لیکن سب کا خط خوبصورت نہیں ہوتا۔لکھنے والی قلم۔سیاہی اور کا غذ ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔پھر ہاتھ بھی ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔وہی پانچوں انگلیاں سب کی ہوتی ہیں جو ایک خوشنویس کی ہوتی ہیں۔ایک ہی طرح کے گوشت ہڈیوں اور نسوں سے بنی ہوتی ہیں۔مگر جب ایک لکھتا ہے تو ایسا خوبصورت کہ دیکھنے والے کی طبیعت خوش ہو جاتی ہے اور جب دوسرا لکھتا ہے تو ایسا کہ دیکھنے والے کی طبیعت مکدر ہو جاتی ہے۔دونوں خطوں میں بڑا فرق ہوتا ہے اور دونوں کا اپنے اپنے رنگ میں بڑا اثر پڑتا ہے۔میں نے دیکھا ہے اعلیٰ اور عمدہ خط کی طرف انسان کی طبیعت خود بخود ھنچتی ہے۔گو میرا اپنا خط کوئی ایسا اچھا نہیں لیکن میری ڈاک میں جو خط اچھے لکھے ہوتے ہیں۔ان کو میں پہلے پڑھتا ہوں۔تا کہ آسانی سے پڑھ سکوں اور جو مشکل سے پڑھے جاتے ہیں ان کو بعد میں پڑھتا ہوں۔تو خوبصورت خط کا ایک فوری اثر ہوتا ہے۔لیکن جانتے ہو۔خط کی خوبصورتی کہاں سے آتی ہے