خطبات محمود (جلد 5) — Page 154
خطبات محمود جلد (5) ۱۵۴ کامیاب ہو جاؤں گا۔مثلاً تبلیغ کا کام ہے۔اس کے متعلق انسان سوچتا ہے کہ ٹریکٹ تقسیم کروں۔یا لیکچر دوں۔یا خدا سے دعا کروں کہ وہ لوگوں کے دلوں کو کھول دے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے جب کوئی انسان ذرائع کو سوچتے سوچتے یہاں پہنچے کہ میں دعا کروں تو اس کو کہہ دو کہ اللہ قریب ہے۔قریب الیہ نہیں فرما یا اس لئے کہ خدا نہ صرف اس انسان کے قریب ہے بلکہ ہر ایک چیز کے قریب ہے۔اور مدعا حاصل کرنے کا سب سے قریب ذریعہ ہے۔یوں قریب ہونا ایک اور بات ہے لیکن جس مقصد کو حاصل کرنا ہو اس کے قریب کر دینا اور بات۔مثلاً ایک بچہ جو قریب بیٹھا ہوا سے ایک چیز دی جائے کہ فلاں کو دے دو۔جتنے عرصہ میں وہ چیز کو پہنچائے گا اس سے بہت جلدی ایک بڑا انسان جس کے ہاتھ اس سے لمبے ہوں گے باوجود اس سے دور بیٹھے ہونے کے پہنچا دے گا۔کیونکہ وہ لڑکے کی نسبت ایک ایسا ذریعہ ہے جو اس چیز کو پہنچانے کے قریب ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارے بھی قریب ہوں اور وہ مقصد جسے تم حاصل کرنا چاہتے ہو اس کے بھی قریب ہوں۔مثلا کسی نے ولایت میں تبلیغ کا کام کرنا ہے۔خدا تعالیٰ ولایت کے بھی قریب ہے اور یہاں کے بھی جہاں وہ شخص رہتا ہے۔اس لئے وہ یہاں سے بات کو سنکر وہاں فوراً پہنچا سکتا ہے۔تو اس آیت میں قرب مکان کا ذکر نہیں بلکہ یہ کہ حصول مدعا کے لئے جتنے قربوں کی ضرورت ہے۔وہ سب خدا میں موجود ہیں۔مثلاً ایک نص ولایت میں محتاج ہے۔وہ وہاں سے ہمیں مدد کے لئے لکھتا ہے کہ میری مدد کر و۔اگر ہم اس کو روپیہ بھیجیں تو پندرہ بیس دن کے بعد اسے ملے گا لیکن اگر دعا کریں تو ممکن ہے کہ ادھر ہمارے منہ سے اس کے لئے دعا نکلے اور اُدھر خدا تعالیٰ اس کا کوئی انتظام کر دے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں قریب ہوں اگر کوئی مدعا حاصل کرنا چاہتے ہو تو مجھ سے کہو دیکھو ایک مالدار شخص کو بھی جب مال کی ضرورت ہوگی تو وہ کچھ دیر کے بعد صندوق سے نکالے گا۔یا بنک سے ڈرا کرائے گا۔ایک بیمارڈاکٹر کے پاس جائے گا ممکن ہے کہ ڈاکٹر موجود ہی نہ ہو۔اور اگر ہو تو اسے جواب مل جائے کہ ڈاکٹر صاحب سوئے ہوئے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے لئے نہ ہاتھ کی ضرورت اور نہ پاؤں کی۔دل ہی دل میں حاضر ہو سکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں قریب ہوں۔پھر انسان کے ہی قریب نہیں