خطبات محمود (جلد 5) — Page 148
۱۴۸ 20 خطبات محمود جلد (5) مبلغین سلسلہ کی دُعاؤں سے مدد کرو فرموده ۲۳ / جون ۱۹۱۶ء) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا :- وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ (البقرة: ۱۸۷) میں اس وقت جس مضمون کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ ہے تو بہت لمبا بلحاظ اس زمانہ کی ضروریات کے۔کیونکہ اس زمانہ میں جب تک کسی بات کو کھول کر مشرح اور مفصل نہ بیان کیا جائے لوگ کم سمجھتے ہیں ورنہ صحابہ کے زمانہ میں بہت لمبی لمبی باتیں نہایت مختصر فقرات اور جملات میں بیان کر دی جاتی تھیں اور سامعین اسی کو کافی خیال کرتے تھے۔غرض یہ مضمون تو اس قابل ہے کہ اس کی خوب تشریح کی جائے لیکن چونکہ چار پانچ روز سے مجھے بخار آتا ہے اور ڈاکٹر صاحب نے بولنے کے متعلق فرمایا ہے کہ مضر ہے۔اس لئے میں اس کو مختصراً بیان کرتا ہوں۔آگے ہر شخص اپنے اپنے فہم اور سمجھ کے مطابق سوچ لے۔اس وقت ہمارے کچھ مبلغ بیرونجات میں کام کر رہے ہیں۔ایک انگلستان میں ہے ایک ماریشس میں۔ایک پورٹ بلیئر میں ہے۔ایک بنگال میں۔اسی طرح پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہیں۔مدد۔تائید اور نصرت کے تو سب ہی محتاج ہیں۔کیونکہ تمام انسانی کا موں کو اللہ تعالیٰ نے کچھ اس قسم کا بنایا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے سہارے اور تعاون سے چلتے ہیں۔مگر ان میں سے جو بیرونی ممالک میں مبلغ ہیں۔وہ مدد کے زیادہ محتاج ہیں۔محتاج ہی نہیں بلکہ زیادہ مستحق ہیں اس بات کے کہ ہماری جماعت کے تمام لوگ ان کی مدد کریں۔پھر ان میں سے بھی مدد کے زیادہ مستحق وہ ہیں