خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 146

خطبات محمود جلد (5) ۱۴۶ جس کے تمام آسرے اور امیدیں کٹ کر صرف خدا ہی خدا کا سہارا رہ جائے ایسے انسان کی دعا قبول ہوتی ہے اس کے علاوہ خواہ کوئی کتنا روئے گڑ گڑائے۔اس کی دعا قبول نہیں ہوسکتی۔پس اگر تم لوگ ایسے رنگ میں دعائیں کرو گے تو وہ رد نہیں ہوں گی۔روکر تو بتوں پر چڑھاوے چڑھانے والے بھی ان سے دعائیں مانگتے ہیں۔اس لئے رونا دعا کے قبول ہونے کے لئے شرط نہیں۔بلکہ پورا پورا تو کل اور آسرا سوائے خدا کے اور کسی کا نہیں ہونا چاہئیے۔ہر طرف خدا ہی خدا نظر آئے۔ایسے وقت جو انسان دعا کرے اس کی کبھی رد نہیں ہوتی۔اور اگر رڈ ہونی ہو تو اسے دعا کرنے کی توفیق ہی نہیں ملتی۔اور جو خدا کے برگزیدہ انسان ہوتے ہیں ان کو قبول نہ ہونے والی دعا کے متعلق پہلے ہی بذریعہ الہام یا کشف کے بتا دیا جاتا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا گیا کہ اُجِيْبُ كُلّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرَكَائِكَ ے ان کے علاوہ اور لوگوں کے دلوں میں کچھ ایسی کیفیت پیدا کر دی جاتی ہے کہ دعا کرنے کی طرف پوری توجہ نہیں ہوسکتی۔اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ منشاء الہی کچھ اور ہے۔غرض یہ بڑا کار آمد اور مفید ہتھیار ہے۔دیگر سامانوں کے لحاظ سے تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔نہ حکومت ہے نہ مال ہے نہ دولت ہے نہ فوج ہے۔نہ کوئی ایسا سامان ہے ہمارے کام جیسے ہونے چاہئیں اس کے مقابلہ میں بہت چھوٹے چھوٹے پیمانہ پر چل رہے ہیں۔پھر بھی قریبا تمام فنڈ مقروض ہی رہتے ہیں تو دنیاوی سامانوں کے ساتھ ہم اپنے دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہمارا مقابلہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ خدا کا فضل اور رحمت آکر ہمارے لئے راستہ صاف کر دے۔اور یہ تب ہوسکتا ہے جبکہ ہم مضطر ہو کر دعائیں مانگیں اور خدا کے سوا کوئی سہارا اور امید گاہ خیال نہ کریں۔ہمارے لئے صرف ایک خدا ہی ہو اور وہی ہر طرف دکھائی دے۔جس طرح کسی شاعر نے کہا ہے۔ع چدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے۔جب ایسا ہو جائے تو خدا ضرور ہماری دعائیں قبول کر لے گا۔پس دعاؤں میں لگ جاؤ اور اس بات کا یقین رکھو کہ ضرور قبول ہو جائیں گی اور اس بات ل تذکره ص ۲۶